🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ".
ابوجمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں کے بےقابو ہجوم کو دور رکھتا تھا، لیکن کچھ عرصہ نہ جا سکا، بعد میں جب حاضر خدمت ہوا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اتنے دن نہ آنے کی وجہ پوچھی، میں نے عرض کیا کہ بخار ہو گیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے آب زمزم سے ٹھنڈا کیا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2649]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3261
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2650]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1995
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الصِّبْيَانِ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا، فَقُلْتُ: مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ، قَالَ: فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي، قَالَ: فَأَخَذَ بِقَفَايَ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، قَالَ:" اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ" , وَكَانَ كَاتِبَهُ، قَالَ: فَسَعَيْتُ، فَقُلْتُ: أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2651]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا۔ اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضاء کر لے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2652]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1948، م: 1113
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، لم يسمعه منه:" أَنَّ جَدْيًا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے گزرنے نہیں دیا)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2653]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيي بن الجزار لم يسمعه من ابن عباس. وقد رواه البيهقي موصولا. فذكر بينهما صهيبا البصري أبا الصهباء، فإن ثبت هذا فالإسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ، لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت یحیی علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو، یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو، اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2654]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ويوسف بن مهران لين الحديث. لكن قوله: وما ينبغي لأحد أن يقول : أنا خير من يونس بن متى صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ، يَعْنِي: نَبِيذَ السِّقَايَةِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ , هَكَذَا فَاصْنَعُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2655]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ، فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ، فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً , قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں بائیس مرتبہ تکبیر کہی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں تجھے روئے، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2656]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 788
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو۔“ (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے ”عصبہ“ کہتے ہیں)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2657]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6732، م: 1615
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2658
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ كَذَا قَالَ أَبِي , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ، وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلَا يَكُفَّ الثِّيَابَ، وَلَا الشَّعَرَ".
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے“، پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤ کی طرف اشارہ کیا، نیز ”کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2658]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 812، م: 490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں