مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ، خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے ان آباؤ اجداد پر فخر نہ کیا کرو جو زمانہ جاہلیت میں مرگئے ہوں، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ایک مسلمان کی ناک کے نتھنوں میں جو گرد و غبار لڑھک کر چلا جاتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے بہتر ہے جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2739]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُوتِرُ بِثَلَاثٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2740]
الحكم على الحديث:
صحيح، وقد اضطرب فيه على يحيى بن الجزار، فروى عنه عن ابن عباس، وأخرى عن أم سلمة ، وثالثة عن عائشة
حدیث نمبر: 2741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ:" بَلْ حَجَّةٌ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، كُلَّ عَامٍ، لَكَانَ كُلَّ عَامٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2741]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، الْأَحْمَرِ، وَالْأَسْوَدِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي، فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا، میرے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنا دیا گیا ہے، اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے جسے میں نے اپنی امت کے لئے قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے اور یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2742]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد
حدیث نمبر: 2743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارَانِ، إِلَّا أَنْ أُعِدَّهُمَا لِدَيْنٍ" , قَالَ: فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً، وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا عِنْدَ يَهُودِيٍّ بثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے اور میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں، بشرطیکہ قرض ہو بھی۔“ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس صاع جو لئے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2743]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ , وَعَفَّانُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ:" مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا، إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چٹائی پر تشریف فرما ہیں، پہلوئے مبارک پر اس کے نشانات پڑ چکے ہیں، عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کچھ نرم بستر بنوا لیتے تو کتنا اچھا ہوتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو گرمی کے موسم میں سارا دن چلتا رہے اور کچھ دیر کے لئے ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرے، پھر اسے چھوڑ کر چل دے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2744]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا، فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ:" اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا، وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا" وَنَحْوَ ذَلِكَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن سے قتال کیا اور اس کی وجہ سے نماز عصر اپنے وقت سے مؤخر ہو گئی، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2745]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، وَالصُّبْحِ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ، يَدْعُو عَلَيْهِمْ، عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ، أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقَتَلُوهُمْ" , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: وَقَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ تسلسل کے ساتھ ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے اختتام پر دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد بنو سلیم کے ایک قبیلے، رعل، ذکوان، عصیہ اور انہیں پناہ دینے والوں پر بددعا فرماتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل کی طرف اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا لیکن ان لوگوں نے انہیں شہید کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2746]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَأَبُو بِشْرٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2747]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 2748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» ”اے اللہ! میں آپ کا تابع فرمان ہو گیا، میں آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، میں آپ کے غلبہ کی پناہ میں آتا ہوں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس بات سے کہ آپ مجھے گمراہ کر دیں، آپ سب کو زندہ رکھنے والے ہیں، آپ پر موت نہیں آ سکتی اور تمام جن و انس مرجائیں گے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2748]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ : 7383 ، م: 2717