مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا مِنَ الْحُمَّى وَالْأَوْجَاعِ:" بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بخار اور ہر قسم کی تکلیف اور درد سے حفاظت کے لئے یہ دعا سکھاتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللّٰهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ» ”اس اللہ کے نام سے جو بہت بڑا ہے، میں اس اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت عظیم ہے، جوش مارتی ہوئی آگ اور جہنم کی گرمی کے شر سے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2729]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَقَالَ:" كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2730]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ، أَوْ نَحَرَ، أَوْ ذَبَحَ، وَأَشْبَاهِ هَذَا فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَرَجَ , لَا حَرَجَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس ذی الحجہ کے دن اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے، یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2731]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی سے قوم لوط والا عمل کرے تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کر دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2732]
الحكم على الحديث:
ضعيف، وهذا الحديث من منكرات عمرو بن أبى عمرو
حدیث نمبر: 2733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ:" اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کر دو اور اس جانور کو بھی قتل کر دو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2733]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عباد بن منصور ضعيف ، لسوء حفظه، وتدليسه، وتغيره
حدیث نمبر: 2734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ، فَجَاءَ قَوْمَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ , فَلَبِسُوا السِّلَاحَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ؟" , قَالُوا: أَنْتَ , قَالَ:" فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، فَلَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا" , فَجَاءَ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے والد - جو زمانہ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئے تھے - کے متعلق نازیبا کلمات کہے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اسے طمانچہ دے مارا، اس کی قوم کے لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ہم بھی انہیں اسی طرح طمانچہ ماریں گے جیسے انہوں نے مارا ہے، اور اسلحہ پہننے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ بتاؤ کہ اللہ کی بارگاہ میں اہل زمین میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: آپ ہیں، فرمایا کہ ”پھر عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اس لئے تم ہمارے فوت شدگان کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ۔“ یہ سن کر اس انصاری کی قوم والے آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2734]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالأعلى ضعيف، والنهي عن سب الأموات ثابت من حديث عائشة وغيرها
حدیث نمبر: 2735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 , وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ، لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ، فَكَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ؟!".
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] » ”اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر“ فرمایا: ”اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکا دیا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہو گا، اس کا کیا بنے گا۔“ فائدہ: ”زقوم“ جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2735]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ، لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو، یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2736]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد ولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَامَ، صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ، حتى يَقُولُ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے، البتہ وہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ کہنے والے کہتے تھے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2737]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1971. م: 1157
حدیث نمبر: 2738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُصُّ شَارِبَهُ، وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2738]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب الحديث