مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ ضِمَادٌ الْأَزْدِيُّ مَكَّةَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغِلْمَانٌ يَتْبَعُونَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أُعَالِجُ مِنَ الْجُنُونِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا , مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ، فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" , قَالَ: فَقَالَ: رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ , قَالَ: ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ الشِّعْرَ، وَالْعِيَافَةَ، وَالْكَهَانَةَ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ، لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , فَأَسْلَمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ:" عَلَيْكَ وَعَلَى قَوْمِكَ؟" , قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ، عَلَيَّ وَعَلَى قَوْمِي , قَالَ: فَمَرَّتْ سَرِيَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَوْمِهِ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا، إِدَاوَةً أَوْ غَيْرَهَا، فَقَالُوا: هَذِهِ مِنْ قَوْمِ ضِمَادٍ، رُدُّوهَا , قَالَ: فَرَدُّوهَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ضماد ازدی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور ان چند نوجوانوں کو بھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے تھے، اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جنون کا علاج کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ کلمات فرمائے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد اور بخشش طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کے شر سے اس کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ ضماد نے کہا کہ یہ کلمات دوبارہ سنائیے، پھر کہا کہ میں نے شعر، نجوم اور کہانت سب چیزیں سنی ہیں لیکن ایسے کلمات کبھی نہیں سنے، یہ تو سمندر کی گہرائی تک پہنچے ہوئے کلمات ہیں، یہ کہا اور کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کلمہ کی ضمانت آپ اور آپ کی قوم دونوں پر ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! مجھ پر بھی ہے اور میری قوم پر بھی، چنانچہ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ایک سریہ ضماد کی قوم پر سے گزرا اور بعض لوگوں نے ان کا کوئی برتن وغیرہ لے لیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یہ ضماد کی قوم کا برتن ہے، اسے واپس کر دو، چنانچہ انہوں نے وہ برتن تک واپس کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2749]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 868
حدیث نمبر: 2750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ، فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَتْ، فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ، ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِينِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ" , فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا، ثُمَّ قَالَ:" اسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ام حبیبہ بنت عباس کو لے کر آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھا دیا، اس نے پیشاب کر دیا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا شرمندہ ہو گئیں اور بچی کو اس کے کندھوں کے درمیانی جگہ پر تھپڑ لگا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانی کا ایک برتن دے دو“، چنانچہ جہاں جہاں اس نے پیشاب کیا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بہا لیا اور فرمایا: ”پیشاب کی جگہ پر پانی بہا لیا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2750]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، حسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور ہمارے پیچھے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کھڑی تھیں، جو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2751]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" بَيْعِ الْغَرَرِ" , قَالَ أَيُّوبُ: وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ، إِلَّا بِكَيْلٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع اور تجارت سے منع فرمایا ہے۔ راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ یحییٰ نے دھوکہ کی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ میں دریا میں جال پھینک رہا ہوں، جتنی مچھلیاں اس میں آگئیں، میں اتنے روپے میں انہیں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں، اور بھگوڑے غلام کو فروخت کرنا، بدک جانے والی وحشی بکری کی فروخت، جانوروں کے حمل کی فروخت، کانوں کی مٹی کی فروخت، اور جانور کے تھنوں میں موجود دودھ کی بلا اندازہ فروخت بھی شامل ہے، ہاں! اگر دودھ ناپ کر بیچا جائے تو جائز ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2752]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن عتبة ضعيف
حدیث نمبر: 2753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَاجِدًا مُخَوِّيًا، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو سجدے کی حالت میں دیکھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2753]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ، وأربد لم يرو عنه غير أبى إسحاق
حدیث نمبر: 2754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لبيك لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ اس طرح تھا: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ» ۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2754]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره. وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ والضحاك لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ؟" , فَقَالُوا: بِفَارِسَ، وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةً , فَقَالَ:" اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا" , ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى، فَزَادَ فِيهِ: فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے تیار ہو کر آیا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: فارس سے، اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار ملایا گیا ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھری سے ہلا لو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2755]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ وجابر ضعيف
حدیث نمبر: 2756
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ؟".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تھے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2756]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ، ثُمَّ ابْنُوا، وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ، فَلْيَدَعْهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2757]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، أَقَامَ فِيهَا سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سترہ دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2758]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع