مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 4745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَيُّمَا رَجُلٍ كَفَّرَ رَجُلًا، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ، وَإِلَّا فَقَدْ بَاءَ بِالْكُفْرِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی آدمی کو کافر کہتا ہے اگر وہ واقعی کافر ہو تو ٹھیک ورنہ وہ خود کافر ہو کر لوٹتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4745]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ ذَاكَ، وَنَهَى عَنْ" قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں مقتول عورت کو دیکھا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4746]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3015، م: 1744
حدیث نمبر: 4747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مِرَارٍ، وَلَكِنْ قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" كَانَ الْكِفْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ يَطَأَهَا، فَلَمَّا قَعَدَ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ أَرْعِدَتْ وَبَكَتْ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ أَكْرَهْتُكِ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ هَذَا عَمَلٌ لَمْ أَعْمَلْهُ قَطُّ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَيْهِ الْحَاجَةُ، قَالَ: فَتَفْعَلِينَ هَذَا وَلَمْ تَفْعَلِيهِ قَطُّ؟ قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ: اذْهَبِي، فَالدَّنَانِيرُ لَكِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا يَعْصِي اللَّهَ الْكِفْلُ أَبَدًا، فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ، فَأَصْبَحَ مَكْتُوبًا عَلَى بَابِهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْكِفْلِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر میں نے ایک دو نہیں سات یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو میں اس کو بیان نہ کرتا کہ بنی اسرائیل میں ”کفل“ نامی ایک آدمی تھا، جو کسی گناہ سے نہ بچتا تھا، ایک مرتبہ اس کے پاس ایک عورت آئی اس نے اسے اس شرط پر ساٹھ دینار دئیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دے، جب وہ اس کیفیت پر بیٹھا جس کیفیت پر مرد کسی عورت کے ساتھ بیٹھتا ہے، تو وہ کانپنے اور رونے لگی، اس نے پوچھا کیوں روتی ہو کیا میں نے تمہیں اس کام پر مجبور کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں لیکن میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا، مجبوری نے مجھے یہ کام کر نے کرے لئے بےبس کر دیا، یہ سن کر کفل کہنے لگا کہ تم یہ کام کر رہی ہو؟ حالانکہ تم نے اس سے پہلے یہ کام نہیں کیا؟ یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گیا اور اس سے کہا جاؤ، وہ دینار بھی تمہارے ہوئے اور کہنے لگا کہ اب کفل کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا اسی رات وہ مر گیا صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے کفل کو معاف کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4747]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، سعد مولي طلحة لم يرو عنه غير عبد الله بن عبد الله. وهو أبو جعفر الرازي. وقال أبو حاتم: لا يعرف هذا الرجل إلا بحديث واحد، يعني به حديث الكفل هذا
حدیث نمبر: 4748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ، مَا سَارَ أَحَدٌ وَحْدَهُ بِلَيْلٍ أَبَدًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4748]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2998
حدیث نمبر: 4749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ، وَأَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ، فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور اس کی پریشانی دور ہوں اسے چاہئے کہ تنگدست کے لئے کشادگی پیدا کرے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4749]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، ثم هو منقطع، زيد روايته عن الصحابة مرسلة
حدیث نمبر: 4750
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ" قَبَّلَ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو بوسہ دینے کا موقع ملا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4750]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف يزيد. وهو ابن أبى زياد مولي الهاشميين
حدیث نمبر: 4751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4751]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2905، وهذا إسناد حسن، عكرمة بن عمار. وإن احتج به مسلم. حسن الحديث، وقد توبع
حدیث نمبر: 4752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تَفْعَلُهُ؟ فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے، لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلایاپلایا جاتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4752]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1922، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، لكنه متابع
حدیث نمبر: 4753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْقُلَّةِ الْجَرَّةَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو یا تین مٹکوں کے برابر ہو تو اس میں گندگی سرایت نہیں کر تی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4753]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إ سناد جيد دون قوله: «أو ثلاث»
حدیث نمبر: 4754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَجِيءُ الْفِتْنَةُ مِنْ هَاهُنَا، مِنَ الْمَشْرِقِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”فتنہ یہاں سے ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4754]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5296، م: 2905