مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 4795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا، فَضَحَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ، قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے بچے کو دنیا میں رسوا کرنے کے لئے اپنے سے اس کے نسب کی نفی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام گواہوں کی موجودگی میں رسوا کرے گا، یہ ادلے کا بدلہ ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4795]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، والد وكيع مختلف فيه
حدیث نمبر: 4796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ، وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفّٰت (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4796]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، الحارث صدوق
حدیث نمبر: 4797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَسِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سعادت میں یہ کہا کرتے تھے کہ لوگوں میں سب سے بہتر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تین فضیلتیں ملی ہیں اور ان میں سے ہر ایک فضیلت ایسی ہے جو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کیا اور ان سے ان کے یہاں اولاد ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے تمام دروازے بند کروا دئیے سوائے ان کے دروازے کے اور غزوہ خیبر کے دن انہیں جھنڈا عطاء فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4797]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، هشام بن سعد ضعفوه، يكتب حديثه للمتابعات ولا يحتج به، والقسم الأول منه صحيح، كما سلف في: 4626
حدیث نمبر: 4798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِشْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْجِهَادُ حَسَنٌ، هَكَذَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ ایک آدمی نے پوچھا: جہاد فی سبیل اللہ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جہاد ایک اچھی چیز ہے لیکن اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہی چیزیں بیان فرمائی تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4798]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فيه علتان: أولهما: انقطاعه، لأن سالما لم يسمعه من زيد، بينهما عطية بن قيس الكلابي مولي لبني عامر، وثانيهما: جهالة حال يزيد بن بشر
حدیث نمبر: 4799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَرَجُلٌ يُؤَذِّنُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَّ مَوَالِيهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تین طرح کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے، ایک وہ آدمی جو لوگوں کا امام ہو اور لوگ اس سے خوش ہوں، ایک وہ آدمی جو روزانہ پانچ مرتبہ اذان دیتا ہو اور ایک وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے آقا کا حق ادا کرتا ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4799]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو اليقظان ضعفه غير واحد من الأئمة، لكن يكتب حديثه فى المتابعات و الشواهد
حدیث نمبر: 4800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الطَّوِيلُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى القَتَّاتِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ، حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِ مِئَةِ عَامٍ، وَإِنَّ غِلَظَ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں اہل جہنم کے جسم موٹے ہو جائیں گے حتٰی کہ ان کے کان کی لو سے لے کر کندھے تک سات سال کی مسافت ہو گی، کھال کی موٹائی ستر گز ہو گئی اور ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو گی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4800]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى يحيي الطويل
حدیث نمبر: 4801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقْبَى، وَقَالَ:" مَنْ أُرْقِبَ فَهُوَ لَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبٰی (کسی کی موت تک کوئی مکان یا زمین دینے) سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے جس کے لئے رقبیٰ کیا گیا وہ اسی کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4801]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، حبيب بن أبى ثابت مدلس، وقد عنعن، وقد صرح عند عبد الرزاق 16920 أنه لم يسمع من ابن عمر فى الرقبي شيئا
حدیث نمبر: 4802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" إِنَّ الْكُفْرَ مِنْ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4802]
الحكم على الحديث:
صحيح، م:2905، وهذا إسناد حسن من أجل عكرمة بن عمار
حدیث نمبر: 4803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ، وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے؟ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو اس میں گندگی سرایت نہیں کر تی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4803]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند الدارقطني، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَصَفَهُ لِأُمَّتِهِ، وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا مَنْ كَانَ قَبْلِي، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے جو نبی بھی آئے انہوں نے اپنی امت کے سامنے دجال کا حلیہ ضرور بیان کیا ہے اور میں تمہیں اس کی ایک ایسی علامت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی اور وہ یہ کہ دجال کانا ہو گا، اللہ کانا نہیں ہو سکتا اس کی (دجال کی) دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہو گی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4804]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3439، م: 169، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد ابن إسحاق