🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرِيرِ:" إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے متعلق فرمایا: ”یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5125]

الحكم على الحديث:
إسناده من جهة بكر المزني صحيح ، خ : 5841 ، م : 2068 ، و أما بشر بن المحتفر فلا يعرف إلا في هذا الحديث مقروناً ببكر بن عبد الله ، و هو في عداد المجهولين ، و لايضر وجوده هنا في الإسناد ، لأنه مقرون ببكر وهو ثقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر رات کی نمازوں میں سب سے آخری رکعت ہوتی ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5126]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 752 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: كَانَتْ" صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ نمازیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، وہ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5127]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، م : 1180 ، وهذا إسناد حسن .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ" الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یحیٰی بن وثاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غسل جمعہ کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5128]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 844 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْئَيْنِ: عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، فَقَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ، قَدْ شَرِبَ زَبِيبًا وَتَمْرًا، قَالَ: فَجَلَدَهُ الْحَدَّ، وَنَهَى أَنْ يُخْلَطَا، قَالَ: وَأَسْلَمَ رَجُلٌ فِي نَخْلِ رَجُلٍ فَلَمْ يَحْمِلْ نَخْلُهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُ، قَالَ: فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَحَمَلَتْ نَخْلُكَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَبِمَ تَأْكُلُ مَالَهُ؟! قَالَ: فَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ، وَنَهَى عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.
نجران کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں، ایک تو کشمش اور کھجور کے متعلق اور ایک کھجور کے درخت میں بیع سلم کے متعلق (ادھار)۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نشے میں دھت ایک شخص کو لایا گیا، اس نے کشمش اور کھجور کی شراب پی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری فرمائی اور ان دونوں کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا۔ نیز ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی، لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا، اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کر دیا، وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا تمہارے درختوں پر پھل نہیں آیا؟ اس نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں؟“ چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹا دئیے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5129]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة النجراني الذي روى عنه أبو إسحاق السبيعي .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں الاّ یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5130]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2107 ، م : 1531 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ"، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: يَعْنِي الْمُحْرِمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ورس اور زعفران سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا، محرم کو؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5131]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 5794 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَمْسٌ لَيْسَ عَلَى حَرَامٍ جُنَاحٌ فِي قَتْلِهِنَّ: الْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحَيَّةُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5132]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1199 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ: لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا يَعْلَمُ نُزُولَ الْغَيْثِ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا يَعْلَمُ السَّاعَةَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کل کیا ہو گا؟ یہ اللہ ہی جانتا ہے، قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5133]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 1039 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5134]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1534 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں