مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، سَمِعْتُ نَافِعًا ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5155]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1395 .
حدیث نمبر: 5156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَرْعِ وَالْمُزَفَّتِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5156]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1997 .
حدیث نمبر: 5157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال (جس کی قیمت تین درہم تھی) چوری کرنے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5157]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 6797 ، م : 1686 .
حدیث نمبر: 5158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَأَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونَ خِيَارًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5158]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2107 ، م : 1531 .
حدیث نمبر: 5159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ؟ قَالَ:" يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَنْ يُصْبِحَ صَلَّى رَكْعَةً تُوتِرُ لَهُ صَلَاتَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر رات کی نماز سے متعلق دریافت کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو، تم نے رات میں جتنی پڑھی ہو گی ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہو جائے گی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5159]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 473 ، م : 729 .
حدیث نمبر: 5160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ وَهُوَ حَرَامٌ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ قسم کے جانور ہیں جہنیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5160]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1199 .
حدیث نمبر: 5161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ فَاتَهُ الْعَصْرُ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے، گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5161]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 626 .
حدیث نمبر: 5162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا نَخْلٍ بِيعَتْ أُصُولُهَا، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوند کاری کی گئی ہو، تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہو گا، الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) خریدتے وقت اس کی بھی شرط لگا دے (کہ میں یہ درخت پھل سمیت خرید رہا ہوں)“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5162]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2206 ، م : 1543 .
حدیث نمبر: 5163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، كَانَ" إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَمَا يَغِيبُ الشَّفَقُ، وَيَقُولُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَهُمَا".
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو وہ غروب شفق کے بعد مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو اکٹھا کر لیتے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جب جلدی ہوتی تھی تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5163]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 1805 .
حدیث نمبر: 5164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَاهُ، فَقَالَ:" مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ، ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُفَارِقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، أَوْ لِيُمْسِكْهَا، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أُمِرَ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ".
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ سے کہو کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ ایام آنے تک انتظار کریں اور ان سے پاکیزگی حاصل ہونے تک رکے رہیں، پھر اپنی بیوی کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یا اسے اپنے پس روک لیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5164]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1471 .