🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ"، قُلْتُ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا ہے۔ قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5175]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 2120 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَجَافُوا الْبَابَ، وَمَكَثُوا سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجَ، فَلَمَّا فُتِحَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ"، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا، اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ اگلے دو ستونوں کے درمیان، البتہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5176]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 468 ، م : 1329 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ، فَأَعْطَاهَا عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا رَجُلًا، فَأُخْبِرَ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبِيعُهَا، قَالَ: فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَبْتَاعُهَا؟ قَالَ:" لَا تَبْتَعْهَا، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑا دے دیا، وہ گھوڑا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کیا تھا تاکہ وہ کسی کو سواری کے لئے دے دیں، بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ گھوڑا بازار میں بک رہا ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے خریدنے کا مشورہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مت خریدو اور اپنے صدقے سے رجوع مت کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5177]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2775 ، م : 1621 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وعُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرات شیخین رضی اللہ عنہم کے ساتھ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں ان کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں، بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل کرنا شروع کر دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5178]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 1082 ، م : 694 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، لَمْ أُصِبْ شَيْئًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا" قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا، لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا تُوهَبُ، وَلَا تُورَثُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ، وَالضَّيْفِ، وَالرِّقَابِ، وَفِي السَّبِيلِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا، غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ (کو خیبر میں ایک زمین حصے میں ملی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق مشورہ لینا چاہا، چنانچہ انہوں) نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میرے حصے میں خیبر کی زمین کا ایک ایسا ٹکڑا آیا ہے کہ اس سے زیادہ عمدہ مال میرے پاس کبھی نہیں آیا، (آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس کی اصل تو اپنے پاس رکھ لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو“، چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء، قریبی رشتہ داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں اور مہمانوں کے لئے وقف کر دیا اور فرمایا کہ اس زمین کے متولی کے لئے خود بھلے طریقے سے اس میں سے کچھ کھانے میں یا اپنے دوست کو جو اس سے اپنے مال میں اضافہ نہ کرنا چاہتا ہو، کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5179]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2737 ، م : 1632 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" بَعَثَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، بَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا، ہمارا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5180]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1749 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الْمُضَمَّرَةِ مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَمَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروا یا، ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے، ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5181]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2868 ، م : 1870 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهَلْ، هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّهْرَ قَدْ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ ٢٩ دن کا ہوتا ہے“، لوگوں نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، انہیں وہم ہو گیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازاواج مطہرات کو چھوڑ دیا تھا، ٢٩ دن ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانے سے نیچے آ گئے، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو ٢٩ ویں دن ہی نیچے آ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5182]

الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح ، وهذا اسناد حسن .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ، فَإِنَّ" الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنی بھی حیاء نہ کیا کرو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہنے دو حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5183]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 24 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک پھل پک نہ جائے اس کی خرید و فروخت نہ کیا کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5184]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1534 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں