🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیر نافع علم، غیر مقبول دعاء خشوع و خضوع سے خالی دل اور نہ بھرنے والے نفس سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6557]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6558]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ، فَقَالَ:" مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهِنَّ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْعَشْرِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: فَأَكْبَرَهُ، فَقَالَ:" وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ رَجُلٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ تَكُونَ مُهْجَةُ نَفْسِهِ فِيهِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اعمال کا تذکر ہ ہونے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دس ایام کے علاوہ کسی اور دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے زیادہ پسند نہیں جتنے ان ایام میں ہیں کسی نے پوچھا جہادفی سبیل اللہ بھی نہیں فرمایا: ”ہاں! جہادفی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور واپس نہ آسکا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا (راوی کہتے ہیں کہ " ان ایام " مرادعشرہ ذی الحجہ ہے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6559]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6560
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6560]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدًا بِالشَّامِ، فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسْتُ، فَجَاءَ شَيْخٌ يُصَلِّي إِلَى السَّارِيَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، فَأَتَى رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَمْنَعَنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ، وَإِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ".
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں شام کی ایک مسجد میں داخل ہوا میں وہاں دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک آدمی آیا اور ستون کی آڑ میں نماز پڑھنے لگے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں اتنے میں ان کے پاس یزید کا قاصد آگیا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہ یہ مجھے تم سے احادیث بیان کر نے سے منع کرنا چاہتا ہے اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہے اے اللہ میں نہ بھرنے والے نفس سے خشوع و خضوع سے خالی دل سے غیر نافع علم سے اور غیر مقبول دعاء سے تیری پناہ میں آتا ہوں اے اللہ میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ مانگتاہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6561]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الشيخ الذى حدث عنه عبد الله بن أبى الهذيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" مَا رُؤِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے دو آدمی چل رہے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6562]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ شُفَيٍّ الْأَصْبَحِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ، فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ؟" قَالَ: قُلْنَا: لَا، إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى:" هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا"، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي يَسَارِهِ:" هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ، بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا"، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ إِذَنْ نَعْمَلُ، إِنْ كَانَ هَذَا أَمْرًا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ، وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ"، ثُمَّ قَالَ: بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا، ثُمَّ قَالَ:" فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ"، ثُمَّ قَالَ: بِالْيُمْنَى، فَنَبَذَ بِهَا، فَقَالَ:" فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ"، وَنَبَذَ بِالْيُسْرَى، فَقَالَ:" فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ دونوں کتابیں کیسی ہیں؟ ہم نے عرض کیا نہیں ہاں اگر آپ یا رسول اللہ! ہمیں بتادیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”یہ اللہ رب العلمین کی کتاب ہے جس میں اہل جنت ان کے آباؤ اجداد اور ان کے قبائل کے نام لکھے ہوئے ہیں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں آخری آدمی تک سب کے نام آگئے ہیں۔ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!! جب اس کام سے فراغت ہوچکی تو پھر ہم عمل کس مقصد کے لئے کر یں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”درستگی پر رہو اور قرب اختیارکو کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہی ہو گا گو کہ وہ کوئی سے اعمال کرتا رہے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہو گا گو کہ وہ کیسے ہی اعمال کرتا رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی مٹھی بنائی اور فرمایا: ”تمہارا رب بندوں کی تقدیر لکھ کر فارغ ہوچکا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے پھونک ماری اور فرمایا: ”ایک فریق جنت میں ہو گا اس کے بعد بائیں ہاتھ پر پھونک کر فرمایا: ”اور ایک فریق جہنم میں ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6563]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو قبيل المعافري مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ، وَالْمَيْسِرَ، وَالْمِزْرَ، وَالْقِنِّينَ، وَالْكُوبَةَ، وَزَادَ لِي صَلَاةَ الْوَتْرِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ نے میری امت پر شراب جوا جو کی شراب شطرنج اور باجے حرام قرار دیئے ہیں اور مجھ میں پر نماز وتر کا اضافہ فرمایا: ”ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6564]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف الفرج بن فضالة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ رَافِعٍ التَّنُوخِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ"، أَوْ" مَا أُبَالِي مَا رَكِبْتُ، إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا"، أَوْ قَالَ:" عَلَّقْتُ تَمِيمَةً، أَوْ قُلْتُ: شِعْرًا مِنْ قِبَلِ نَفْسِي"، الْمَعَافِرِيُّ يَشُكُّ،" مَا أُبَالِي مَا رَكِبْتُ"، أَوْ" مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں نے زہر کو دور کر نے کا تریاق پی رکھا ہو یا گلے میں تعویذ لٹکا رکھا ہو یا ازخود کوئی شعر کہا ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6565]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف عبد الرحمن بن رافع التنوخي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی نگاہوں میں بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں بہتر ہو اور بہترین پڑ٫ سی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6566]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں