مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ، وَيَبْقَى لَهُمْ الثُّلُثُ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً، تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجاہدین کا جو دستہ بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اسے مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اسے اس کا دوتہائی اجر تو فوری طور پردے دیا جاتا ہے اور ایک تہائی ان کے لئے رکھ لیا جاتا ہے اور اگر انہیں مال غنیمت حاصل نہ ہو تو سارا اجر وثواب رکھ لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6577]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1906
حدیث نمبر: 6578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ مِمَّا عِنْدَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ، فَلَا نَسْأَلُ شَيْئًا.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن فقراء مہاجرین مالداروں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے سیدنا عبداللہ فرماتے تھے اگر تم چاہتے ہو تو ہم اپنے پاس سے تمہیں کچھ دے دیتے ہیں اور اگر تم چاہتے ہو تو بادشاہ سے تمہارا معاملہ ذکر کر دیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہم صبر کر یں گے اور کسی چیز کا سوال نہیں کر یں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6578]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2979 مطولا
حدیث نمبر: 6579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے مخلوقات کی تقدیر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6579]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2653
حدیث نمبر: 6580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ أَهْلِ النَّارِ:" كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جہنم کا تذکر ہ ہوئے فرمایا: ”کہ ہر بد اخلاق تندخو، متکبر جمع کر کے رکھنے والا اور نیکی سے روکنے والاجہنم میں ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6580]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ:4918، م: 2853، عن حارثة ابن وهب
حدیث نمبر: 6581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" أَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأَ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور ان لوگوں کو بھی سلام کرو جن سے جان پہچان ہو اور انہیں بھی جن سے جان پہچان نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6581]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ:12، م: 39
حدیث نمبر: 6582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہو جائے اللہ اسے قبر کی آزمائش سے بچالیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6582]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ربيعة بن سيف لم يسمع من عبد الله بن عمرو، وهو وهشام بن سعد ضعيفان
حدیث نمبر: 6583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ حَمَّادٌ: أَظُنُّهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ سِيجَانٍ، مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ! قَالَ: يُرِيدُ أَنْ يَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ، وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ! قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ، وَقَالَ:" أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ!"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ: إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ، آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ، وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ، لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ، وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ، وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ، كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً، قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ، وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ"، قَالَ: قُلْتُ، أَوْ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: الْكِبْرُ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ:" لَا"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ:" سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دیہات کا ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا جس پر ریشم کے بٹن ٹکے ہوئے تھے۔ اس نے (بڑے فخریہ انداز میں) کہا: ”سنو! تمہارے اس ساتھی نے ہر شہسوار کے بیٹے کو (جو سردار ہے) گرا دیا ہے، اور اس کا ارادہ ہے کہ ہر سردار کے بیٹے کو گرا دے اور چرواہے کے بیٹے کو (جو غریب ہے) بلند کر دے۔“ عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جبے کو اکٹھا کر کے پکڑا اور فرمایا: ”کیا میں تیرے اوپر بے وقوفوں والا لباس نہیں دیکھ رہا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ”میں تمہیں ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تمہیں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے، تو «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا پلڑا ان پر بھاری ہو جائے گا۔ اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں مل کر ایک مضبوط بند حلقہ بن جائیں تو «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اسے بھی توڑ دے گا۔ اور (میں تمہیں) «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» (کی پابندی) کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی تسبیح ہے اور اسی کے صدقے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔ اور میں تمہیں شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔““ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا (یا کسی نے عرض کیا): ”اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں، یہ تکبر کیا ہے؟ کیا تکبر یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس دو خوبصورت جوتے ہوں جن کے تسمے بھی خوبصورت ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے پوچھا: ”کیا تکبر یہ ہے کہ کسی کے پاس عمدہ جوڑا ہو جسے وہ پہنے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے پوچھا: ”کیا تکبر یہ ہے کہ کسی کے پاس سواری کا جانور ہو جس پر وہ سوار ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے پوچھا: ”کیا تکبر یہ ہے کہ کسی کے دوست احباب ہوں جو اس کی مجلس میں بیٹھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! پھر تکبر کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حق کو بیوقوفی سے جھٹلا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6583]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا تَكُونَنَّ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ، فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ اس شخص کی طرح نہ ہوجانا جو قیام اللیل کے لئے اٹھتا تھا پھر اس نے اسے ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6584]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ:1152، م: 1159
حدیث نمبر: 6585
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6585]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ هَذَا فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ، قَالَ: نَزَلَ رَجُلٌ عَلَى مَسْرُوقٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَلَمْ تَضُرَّ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، كَمَا لَوْ لَقِيَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ بِهِ دَخَلَ النَّارَ، وَلَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ"، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ: جَاءَ رَجُلٌ أَوْ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَنَزَلَ عَلَى مَسْرُوقٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ، لَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد: وَالصَّوَابُ مَا قَالَهُ أَبُو نُعَيْمٍ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اسے کوئی گناہ نقصان نہ پہنچاسکے گا جیسے اگر کوئی شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ مشرک ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا اور اسے کوئی نیکی نفع نہ پہنچا سکے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6586]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح