مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ يَحْيَى قَالَ:" فِي سَبْعٍ، لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ"، وَقَالَ: كَيْفَ أَصُومُ؟ قَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَيُكْتَبُ لَكَ أَجْرُ تِسْعَةِ أَيَّامٍ"، قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ يَوْمَيْنِ، وَيُكْتَبُ لَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ"، حَتَّى بَلَغَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میں کتنے دن میں ایک قرآن پڑھا کروں؟ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور کہا کہ سات دن میں اور تین دن سے کم میں پڑھنے والا اسے نہیں سمجھتا میں نے پوچھا کہ روزے کس طرح رکھوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے تین روزے رکھا کرو ایک روزہ دس دن کی طرف سے ہو جائے گا اور تمہارے لئے نو ایام کا اجر مزید لکھا جائے گا میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس دن میں دو روزے رکھ لیا کرو اور تمہارے لئے آٹھ ایام کا اجر لکھا جائے گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ دن تک پہنچ گئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6775]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 6546
حدیث نمبر: 6776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، فَضَرَبَ عَلَى الْحَسَنِ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ، وَإِنَمَا هُوَ: مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الزُّبَيْرِ، أَخْطَأَ الأزرق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي لَا يَقُولُونَ لِلظَّالِمِ مِنْهُمْ أَنْتَ ظَالِمٌ، فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہے تو ان سے رخصت ہو گئی (ضمیر کی زندگی یا دعاؤں کی قبولیت) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6776]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو الزبير لم يسمع من عبد الله بن عمرو
حدیث نمبر: 6777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ يَحْيَى ، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: قَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ رَاشِدٌ أَبُو يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ؟ قَالَ:" غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ الْجَنَّةُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ!! مجالس ذکر کی غنیمت کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجالس ذکر کی غنیمت جنت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6777]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وراشد بن يحيى المعافري مجهول
حدیث نمبر: 6778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ"، قَالَ يَزِيدُ:" لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6778]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 6779
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6779]
الحكم على الحديث:
إسناده هو إسناد الحديث الذى قبله
حدیث نمبر: 6780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جس خاتون کا (نکاح یا خرید کے ذریعے) مالک نہ ہو اسے طلاق دینے کا بھی حق نہیں رکھتا اپنے غیر مملوک کو آزاد کر نے کا بھی انسان کو کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی غیر مملوک چیز کی منت ماننے کا اختیار ہے اور نہ ہی غیر مملوک چیز میں اس کی قسم کا کوئی اعتبار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6780]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَجُوزُ طَلَاقٌ وَلَا بَيْعٌ وَلَا عِتْقٌ وَلَا وَفَاءُ نَذْرٍ فِيمَا لَا يَمْلِكُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جس چیز کا (نکاح یاخرید کے ذریعے) مالک نہ ہو اسے طلاق دینے، بیچنے، آزاد کر نے یا منت پوری کر نے کا اختیار نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6781]
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 6782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ أَكْثَرَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهَا وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ کے پاس جمرہ اولیٰ کی نسبت زیادہ دیر ٹھہرے رہے پھر جمرہ عقبہ پر تشریف لا کر رمی کی اور وہاں نہیں ٹھہرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6782]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 6783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَنَا" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ، وَيَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَيُصَلِّي حَافِيًا وَنَاعِلًا، وَيَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ دائیں بائیں جانب سے واپس چلے جاتے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے اور سفر میں روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6783]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 6784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ أَنْتَ ظَالِمٌ، فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہے تو ان سے رخصت ہو گئی (ضمیر کی زندگی یا دعاؤں کی قبولیت) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6784]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو الزبير لم يسمع من عبد الله بن عمرو