🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ عِنْدَهُ، فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ" فَبَدَأَ بِهِ" وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ".
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکر ہ کر نے لگے اور فرمایا: ”کہ ایسا آدمی ہے جس میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چار آدمیوں سے قرآن سیکھو اور ان میں سب سے پہلے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا پھر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا پھر سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6795]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3760، م: 2464
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں یا کسی ذمی کو اس کے معاہدے کی مدت میں قتل نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6796]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ، وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ:" الْمُسْلِمُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”مسلمان اپنے علاوہ سب پر ایک ہاتھ ہیں سب کا خون برابر ہے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6797]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ"، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَوِيٍّ: وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ سَعْدٌ وَلَا ابْنُهُ، يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مالدار آدمی کے لئے یا کسی مضبوط اور طاقتور (ہٹے کٹے) آدمی کے لئے زکوٰۃ لیناجائز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6798]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6799
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ: وَارْقَ، وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور درجات جنت چڑھتاجا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسے دنیا میں میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا کہ تیری منزل اس آخری آیت پر ہو گی جو تو پڑھے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6799]

الحكم على الحديث:
صحيح، لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ؟ قَالَ:" انْحَرْ وَلَا حَرَجَ"، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروا لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب میں یہی فرمایا: ”اب کر لو کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6800]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 83، م: 1306
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَإِنَّا لَجُلُوسٌ إِذْ اخْتَلَفَ رَجُلَانِ فِي آيَةٍ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا هَلَكَتْ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان ایک آیت کی تفسیر میں اختلاف ہو گیا اور بڑھتے بڑھتے ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتیں اپنی کتاب میں اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6801]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2666
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ الْأَخْنَسِ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: تَكْتُبُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟ فَأَمْسَكْتُ، حَتَّى ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا خَرَجَ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو چیزیں سن لیتا اسے لکھ لیتا تاکہ یاد کر سکوں مجھے قریش کے لوگوں نے اس سے منع کیا اور کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتے ہو سب لکھ لیتے ہو حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک انسان بعض اوقات غصہ میں بات کرتے ہیں اور بعض اوقات خوشی میں ان لوگوں کے کہنے کے بعد میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے حق کے سواکچھ نہیں نکلتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6802]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6803]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 735
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي مُرَيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" النَّفَّاخَانِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَشْرِقِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَغْرِبِ"، أَوْ قَالَ:" رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ، يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ يَنْفُخَانِ فِي الصُّورِ، فَيَنْفُخَانِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صور پھونکنے والے فرشتے دوسرے آسمان میں ہیں ان میں سے ایک کا سر مشرق میں اور پاؤں مغرب میں ہیں اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں صور پھونکنے کا حکم کب ملتا ہے کہ وہ اسے پھونکیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6804]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف للشك بين إرساله ووصله، ولجهالة أبى مرية فيما لوثبت وصله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں