🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يُوسُفَ ، أَوْ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ، رُفِعَ مِنْ بَيْنِهِمْ سَبْعَةُ أَذْرُع".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے سات گز پر اتفاق کر کے دور کر لیا جائے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7126]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُهَيْمِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْرُؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَاءِ إِلَى النَّارِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امرؤالقیس جہنم میں جانے والے شعراء کا علم بردار ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7127]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، أبو الجهم الواسطي مجهول، واهي الحديث .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ، فَإِنْ اسْتُشْهِدْتُ، كُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ رَجَعْتُ، فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ فرما رکھا ہے، اگر میں اس جہاد میں شرکت کر سکا اور شہید ہو گیا تو میرا شمار بہترین شہداء میں ہو گا اور اگر میں زندہ واپس آ گیا تو میں نار جہنم سے آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7128]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، جبر مجهول .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي بَعْدَهَا كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا"، قَالَ" وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ يَعْنِي رَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ:" إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ"، قَالَ: فَعَرَفْتُ أَنَّ ذَلِكَ الْأَمْرَ حَدَثَ:" إِلَّا مِنَ الْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ، وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ، وَتَرْكِ السُّنَّةِ"، قَالَ: أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ: أَنْ تُبَايِعَ رَجُلًا ثُمَّ تُخَالِفَ إِلَيْهِ تُقَاتِلُهُ بِسَيْفِكَ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ، قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أما الإشراكُ بالله فقد عَرَفْناهُ، فما نَكْثُ الصَّفْقةِ؟ قال:" فأن تُبايعَ رجلاً ثم تخالِفَ إليهِ تُقاتِلُه بسَيْفكَ، وأَما تَرْكُ السُّنةِ، فََالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک فرض نماز اگلی نماز تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے، اسی طرح ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، ایک مہینہ (رمضان) دوسرے مہینے (رمضان) تک بھی درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔“ اس کے بعد فرمایا: ”سوائے تین گناہوں کے۔“ میں سمجھ گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کسی خاص وجہ کی بناء پر فرمایا ہے۔ (بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے، معاملہ توڑنے کے اور سنت چھوڑنے کے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، معاملہ توڑنے سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ توڑنے سے مراد یہ ہے کہ تم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرو، پھر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہو جاؤ اور تلوار پکڑ کر اس سے قتال شروع کر دو اور سنت چھوڑنے سے مراد جماعت مسلمین سے خروج ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7129]

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: «إلا من ثلاث ....» إلى آخر الحديث، أخرجه مسلم: 233 مختصرا، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى هريرة، كما روى يزيد بن هارون وسيأتي بزيادة رجل مبهم بين عبدالله وبين أبى هريرة، وقال الدارقطني : قول يزيد أشبه بالصواب من قول هشيم .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7130]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَالثَّيِّبُ تُشَاوَرُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي! قَال:" سُكُوتُهَا رِضَاهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے۔“ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری لڑکی شرماتی ہے (تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی ہی اس کی رضامندی کی علامت ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7131]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6970، م: 1419
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرنا عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُصُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7132]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 8593، م: 259
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا قَالَ:" أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7133]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5110، م: 1408
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ طُعْمٍ، وَذِكْرِ اللَّهِ". قَالَ مَرَّةً:" أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔“ ایک دوسری سند میں صرف کھانے پینے کا ذکر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7134]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ، فَحَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَتِيرَةَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا فَرَعَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں، اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7135]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 5474، م: 1976، وهذا إسناد صحيح إن كان هشيم سمعه من الزهري، وإن كان الواسطة بينهما سفيان بن حسين فالإسناد لأجله ضعيف، ومع ذلك فهو متابع .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں