🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے، وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7136]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1521، م: 1350، هشيم وإن كان مدلسا وقد عنعن، قد تابعه شعبة .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: أَطُوفُ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ، تَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَمْ يَسْتَثْنِ، فَمَا وَلَدَتْ إِلَّا وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ بِشِقِّ إِنْسَانٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ اسْتَثْنَى، لَوُلِدَ لَهُ مِائَةُ غُلَامٍ كُلُّهُمْ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: آج رات ميں عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا، ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا، جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے، چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتاً سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7137]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7469، م: 1654، لا تضر عنعنة هشيم، فقد تابعه يزيد بن هارون .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ قَالَ هُشَيْمٌ: فَلَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ: بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا)۔ سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی، جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7138]

الحكم على الحديث:
حسن، خ: 1178، م: 721، فيه تدليس الحسن، وقد توبع .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَة: قَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَالِاسْتِحْدَاد، وَالْخِتَانُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں۔ مونچھیں تراشنا، ناخن کانٹا، بغل کے بال نوچنا، زیرناف بال صاف کرنا، ختنہ کرنا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7139]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5891، م: 257
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ، أَوْ قَالَ: صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ فِيهَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَقَالَ: سَجَدْتُ فِيهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ".
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں انہوں نے سورۃ انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا، نماز کے بعد میں نے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ؟ (آپ نے یہ کیا کیا؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7140]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اور وہ بیماری والے پر کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتی ہے (پہلے اسے برتن میں ڈالتی ہے) اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7141]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي و الحديث صحيح، خ: 5782
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَلْيُسَلِّمْ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ، فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَ الْأَوَّلُ بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہیے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہیے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7142]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا، فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7143]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1510
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7144]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو لوگوں کے درمیان جج بنا دیا جائے۔ گویا اسے بغیر چھری کے ذبج کر دیا گیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7145]

الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن سعيد لم يسمعه من سعيد المقبري .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں