مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. حَدِیث اَبِی رِمثَةَ عَنِ النَّبِیَّ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ".
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7117]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، وَلَمْ أَكُنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، فَقُلْتُ لِابْنِي: هَذَا وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ ابْنِي يَرْتَعِدُ، هَيْبَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ، وَإِنَّ أَبِي كَانَ طَبِيبًا، وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتِ طِبٍّ، وَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيْنَا مِنَ الْجَسَدِ عِرْقٌ وَلَا عَظْمٌ، فَأَرِنِي هَذِهِ الَّتِي عَلَى كَتِفِكَ، فَإِنْ كَانَتْ سِلْعَةً قَطَعْتُهَا، ثُمَّ دَاوَيْتُهَا، قَالَ:" لَا، طَبِيبُهَا اللَّهُ"، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ؟" قُلْتُ: ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:" ابْنُكَ؟"، قَالَ: ابْنِي، أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ:" ابْنُكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ".
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوا نہیں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو سبز چادروں میں باہر تشریف لائے میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی ہیں تو میرا بیٹا ہیبت کی وجہ سے کانپنے لگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھا جاتا ہوں اطباء کے گھرانے میں سے میرا تعلق ہے آپ مجھے اپنی پشت دکھائیے اگر یہ پھوڑا ہوا تو میں اسے دبا دوں گا ورنہ آپ کو بتادوں گا کیونکہ اس وقت زخموں کا مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے تھوڑی دیر گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعی؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7118]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7118M
حَدِیث اَبِی رِمثَةَ عَنِ النَّبِیَّ رَضِیَ اللَّه عَنه
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7119
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِير ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ِِِيَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی (قسم لینے والا) بھی کرے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7119]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 1653
حدیث نمبر: 7120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے، کان اور صحرا میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے، اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7120]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 7121
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الزُّهْرِيّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا، فَقَالَ لَهُ: أتُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عیینہ بن حصن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کو چوم رہے ہیں، وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! آپ انہیں چوم رہے ہیں، جبکہ میرے یہاں تو دس بیٹے ہیں، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چوما؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو کسی پر رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7121]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5997، م: 2318
حدیث نمبر: 7122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِقَوْمٍ يَتوضَّئونَ، فَقَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ".
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7122]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 7123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ، يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ سب سے بہتر ہے۔“ (اب یہ بات اللہ زیادہ جانتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی بعد والوں کا ذکر فرمایا یا نہیں) اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹاپے کو پسند کرے گی اور گواہی کے مطالبے سے قبل ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہو گی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7123]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2534
حدیث نمبر: 7124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7124]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2404، م: 1559
حدیث نمبر: 7125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً، فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُهُ نَفَقَتُهُ، وَيَرْكَبُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر جانور کو بطور رہن کے کسی کے پاس رکھوایا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے واجب ہو گا اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جا سکتا ہے، البتہ جو شخص اس کا دودھ پیے گا اس کا خرچہ بھی اس کے ذمے ہو گا اور اس پر سواری بھی کی جا سکتی ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7125]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2512، هشيم صرح بالتحديث عندالدارقطني، وقد توبع .