🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: لَقَدْ" أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً"، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ لَهُ ذُؤَابَتَانِ، يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3906]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5000، م: 2462.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، حَتَّى ذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، لَا تَخْتَلِفُوا" أَكْبَرُ عِلْمِي وَإِلََّا فَمِسْعَرٌ حَدَّثَنِي بِهَا" فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَلَكُوا".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3907]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2410.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كِلَاكُمَا قَدْ أَحْسَنَ"، قَالَ: وَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَخْتَلِفُوا، فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَلَكُوا".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا، یا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ ”تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3908]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3476 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3909]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2383.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : كَيْفَ تَعْرِفُ هَذَا الْحَرْفَ: مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ أَمْ آسِنٍ؟ فَقَالَ: كُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ؟ قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَجْمَعَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ: أَهَذَّ الشِّعْرِ لَا أَبَا لَكَ؟! قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ" يَقْرُنُ قَرِينَتَيْنِ، قَرِينَتَيْنِ ؛ مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ". وَكَانَ أَوَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمَنُ.
زرّ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اس آیت کو کس طرح پڑھتے ہیں: «مِنْ مَاءٌ غَيْرُ يَاسِنٍ» یا «آسِنٍ» یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس آیت کے علاوہ تم نے سارا قرآن یاد کر لیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ (آپ اس سے اندازہ لگا لیں) میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، جن کا تعلق مفصلات سے تھا، یاد رہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں مفصلات کا آغاز سورہ رحمٰن سے ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3910]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ أُذْنَانَ ، قَالَ: أَسْلَفْتُ عَلْقَمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ، قُلْتُ لَهُ: اقْضِنِي، قَالَ: أَخِّرْنِي إِلَى قَابِلٍ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ، فَأَخَذْتُهَا، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ، قَالَ: بَرَّحْتَ بِي قَدْ مَنَعْتَنِي، فَقُلْتُ: نَعَمْ، هُوَ عَمَلُكَ، قَالَ: وَمَا شَأْنِي؟ قُلْتُ: إِنَّكَ حَدَّثْتَنِي عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ". قَالَ: نَعَمْ، فَهُوَ كَذَاكَ، قَالَ: فَخُذْ الْآنَ.
ابن اذنان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کو دو ہزار درہم قرض کے طور پر دیئے، جب مال غنیمت میں سے انہیں حصہ ملا تو میں نے ان سے کہا کہ اب میرا قرض ادا کیجئے، انہوں نے کہا کہ مجھے ایک سال تک مہلت دے دو، میں نے انکار کر دیا اور ان سے اپنے پیسے وصول کر لئے، کچھ عرصے بعد میں ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ تم نے انکار کر کے مجھے بڑی تکلیف پہنچائی تھی، میں نے کہا: اچھا، یہ تو آپ کا عمل تھا، انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ میں نے کہا کہ آپ ہی نے تو ہمیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرض آدھے صدقے کے قائم مقام ہوتا ہے“، انہوں نے کہا کہ ہاں، یہ تو ہے، میں نے کہا: اب دوبارہ لے لیجئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3911]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْفَرْجُ يَزْنِي".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں، پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ بھی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3912]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا، اور وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3913]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 91.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ مَاتَ، فَوُجِدَ فِي بُرْدَتِهِ دِينَارَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيَّتَانِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، ان کی چادر میں دو دینار ملے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3914]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، عَلَيْهِ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ، يُنْثَرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ: الدُّرُّ وَالْيَاقُوتُ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «‏‏‏‏ ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى﴾ » ‏‏‏‏ [النجم: 13] کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سدرۃ المنتہی کے پاس جبرئیل امین کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے جن سے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3915]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں