مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7666
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وأبِي بَكْر بن أبي حَثْمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ: أَخُفِّفَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟"، قَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ. فَأَتَمَّ بِهِمْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اس پر ذوالشمالین بن عبد عمرو جو بنی زہرہ کا حلیف تھے نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7666]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
حدیث نمبر: 7667
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأَبي سَلَمة ، أو أحدهما، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ، وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ، وَذَا الْحَاجَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص امام بن کر نماز پڑھایا کرے تو ہلکی نماز پڑھایا کرے کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور اہل حاجت سب ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7667]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 703، م: 467.
حدیث نمبر: 7668
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يُؤْمِنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ؟!" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7668]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 691، م: 427.
حدیث نمبر: 7669
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْجِ الْوَلِيدَ بن الوليد، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو اللہم ربنا و لک الحمد کہہ کر یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطاء فرما اے اللہ قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7669]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6940، م: 675.
حدیث نمبر: 7670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں دی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7670]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5023، م: 792.
حدیث نمبر: 7671
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ، نَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى". قَالَ: ثُمَّ أَوْهَمَ الْحَسَنُ بعدُ فَجَعَلَ مَكَانَ" الضُّحَى":" غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں سفر و حضر میں کبھی نہ چھوڑوں (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی۔ بعد میں حسن کو وہم ہوا تو وہ اس کی جگہ۔۔ غسل جمعہ۔۔ کا ذکر کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7671]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7672
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ عِيَاضٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہیے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7672]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 172، م: 279.
حدیث نمبر: 7673
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي زيادٌ أَيْضًا، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ بِذَلِكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7673]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7674
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ نَائِمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَأَرَادَ الْوُضُوءَ، فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَصُبَّ عَلَى يَدِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7674]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7675
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے ہوئے دیکھا وہ فرمانے لگے میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اس لئے وضو کر رہا ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7675]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 352.