مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8046
قَالَ: " وَمَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8047
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ، يَقُولُ: " انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل عرفات کو دیکھ کر اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں اور گرد و غبار کے ساتھ آئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8047]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8048
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ادویات کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8048]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8049
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8049]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8050
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ:" كُلُوا"، وَلَمْ يَأْكُلْ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8050]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 8051
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي هَذِهِ الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26، فَقَالُوا: نَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8051]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8052
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا قَفَّا وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ، لِيَنْتَبِذْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنے اپنے نفس کا خود محاسب ہے اور ہر قوم ان برتنوں میں نبیذ بنا سکتی ہے جو انہیں مناسب معلوم ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8052]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8053
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں فقر و فاقہ قلت اور ذلت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس کی بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8053]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8054
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضْ الْيَوْمَ، يُجْزَ غَدًا، وَمَلَكًا بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمان کے ایک دروازے پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو یہ کہتا ہے کہ کون ہے جو قرض دے اور کل اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے؟ اور دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور روک کر رکھنے والے کا مال جلد ہلاک فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8054]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1442، م: 1010
حدیث نمبر: 8055
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَهُ خَمْرًا فِي سَفِينَةٍ يَبِيعُهُ، وَمَعَهُ قِرْدٌ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ الْخَمْرَ، شَابَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ بَاعَهُ، قَالَ: فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ، فَصَعِدَ بِهِ فَوْقَ الدَّقَلِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَطْرَحُ دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ، حَتَّى قَسَمَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8055]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات ، لكن الصواب وقفه