مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8036
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8036]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شتير مجهول
حدیث نمبر: 8037
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ، أَوْ أُثَالَةَ أَسْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ، فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں فلاں آدمی کے باغ میں لے جاؤ اور انہیں غسل کرنے کا حکم دو۔ فائدہ ان کا مکمل واقعہ حدیث نمبر ٧٣٥٥ میں مفصل گذر چکا ہے وہاں ملاحظہ کیجئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8037]
الحكم على الحديث:
حديث قوي، خ: 462، م: 1764، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله، وقد توبع
حدیث نمبر: 8038
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ، فَقَالَ: " أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ؟" قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ أَوْ قَالَ:" مِنْ فَضْلِكَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار آپ کے فضل یا رحمت سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8038]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 279
حدیث نمبر: 8039
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ، فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ، فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8039]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1914
حدیث نمبر: 8040
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ: انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ يُحْرِقُوهُ حَتَّى يَدَعُوهُ حُمَمًا، ثُمَّ اطْحَنُوهُ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" يَا ابْنَ آدَمَ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟" قَالَ: أَيْ رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ، قَالَ: فَغُفِرَ لَهُ بِهَا، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا یہاں تک وہ کوئلہ بن جائے پھر اسے خوب باریک کر کے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اسی لمحے وہ بندہ اللہ کے قبضہ میں تھا اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم تجھے اس حرکت پر کس چیز نے بر انگیختہ کیا؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔ حالانکہ اس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8040]
الحكم على الحديث:
صحيح، وله إسنادان: الأول متصل صحيح، والثاني ضعيف لارساله وللجهالة، خ: 3481، م: 2756
حدیث نمبر: 8041
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8041]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8042
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ: عَمْرٌو، وَهِشَامٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مومن ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8042]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8043
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَبُو النَّضْرِ: سَعْدٌ أَبُو مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِذَا رَأَيْنَاكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا، وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ! قَالَ: " لَوْ تَكُونُونَ أَوْ قَالَ: لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي أَنْتُمْ عَلَيْهَا عِنْدِي، لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهِمْ، وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا، لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ" . قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ، مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: " لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبؤُسُ، وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ . ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاواتِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ:" وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ کی زیارت کرتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں اور ہم اہل آخرت میں سے ہوجاتے ہیں اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگتی ہے اور ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو سونگھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ہر وقت اسی کیفیت پر رہنے لگو جو تمہیں میرے پاس حاصل ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگیں اور تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کو آنے لگیں اور اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے کر آئے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔ تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران روزہ دار تاآنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بد دعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8043]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبو المدلة
حدیث نمبر: 8044
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، قُلْتُ لِزُهَيْرٍ: أَهُوَ أَبُو الْمُجَاهِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول: قلنا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8044]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 8045
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ، فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ، فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ مُنْتَبَذَتَان تُوطَآَنِ، وَمُرْ بِالْكَلْبِ يُخْرَجَ". فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَام تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کو کاٹنے کا حکم دیجئے جس کے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے اور گھر سے کتے کو نکالنے کا حکم دے دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ اور فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8045]
الحكم على الحديث:
صحيح دون قصة تمثال الرجل، فقد تفرد بها يونس، و ربما وهم فى روايته