مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8106
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ: أَمَرَنِي بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى كُلَّ يَوْمٍ، وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ، وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے، کتے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8106]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف شريك، وأصله في، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 8107
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمتوں کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8107]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك
حدیث نمبر: 8108
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ کا اثر اس کی کھال تک پہنچ جائے یہ کسی قبر پر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8108]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 971، وهذا إسناد فيه شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8109
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے اور جو میری کنیت پر اپنی کنیت رکھے وہ میرا نام اختیار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8109]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 8110
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا سورة البقرة آية 58، قَالَ: " دَخَلُوا زَحْفًا"، وَقُولُوا حِطَّةٌ سورة البقرة آية 58، قَالَ:" بَدَّلُوا فَقَالُوا: حِنْطَةٌ فِي شَعَرَةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادباری تعالیٰ ادخلوا الباب سجدا کی تفسیر میں فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اپنی سرینوں کے بل گھستے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں اور یوں کہیں حطۃ (الہٰی معاف فرما) لیکن انہوں نے اس لفظ کو بدل دیا اور کہنے لگے حنطۃ فی شعیرۃ (گندم درکار ہے جو کے ساتھ) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8110]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4479، م: 3015
حدیث نمبر: 8111
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ أَوْ قَالَ: إِلَى الْمَسْجِدِ صَدَقَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم مسجد کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8111]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2707، م: 1009
حدیث نمبر: 8112
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ " سَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کا نام چال رکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8112]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3029، م: 1740
حدیث نمبر: 8113
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ، قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَ خَضِرًا أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ، فَإِذَا هِيَ تَحْتَهُ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ انہیں خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سفید گھاس پر بیٹھے تو وہ نیچے سے سبز رنگ میں تبدیل ہو کر لہلہانے لگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8113]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3402
حدیث نمبر: 8114
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَجِيءُ الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، هُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8114]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8115
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ وہ روایات ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8115]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 876، م: 855