مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8126
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَارُكُمْ هَذِهِ، مَا يُوقِدُ بَنُو آدَمَ، جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِن حَرِّ جَهَنَّمَ"، قَالُوا: وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا، كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری یہ آگ جسے بنی آدم جلاتے ہیں جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! واللہ یہ ایک جز بھی کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ اس سے ٦٩ درجے زیادہ تیز ہے اور ان میں سے ہر درجہ اس کی حرارت کی مانند ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8126]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
حدیث نمبر: 8127
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ، كَتَبَ كِتَابًا، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا تو اپنی کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8127]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751
حدیث نمبر: 8128
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَجْهَلْ، وَلَا يَرْفُثْ، فَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَتَمَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہئے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8128]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 8129
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ جَرَّايَ، فَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے روزہ دار میری وجہ سے اپنا کھانا پینا اور خواہش پر عمل کرنا ترک کردیتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8129]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 8130
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، وَأَمَرَ بِالنَّارِ، فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ، قَالَ: فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے اپنے سامان کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا اور چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ سزا دی؟ (صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا سب نے تو نہیں) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8130]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3019، م: 2241
حدیث نمبر: 8131
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ انہیں سواری مہیا کرسکوں اور وہ اتنی وسعت نہیں پاتے کہ وہ میری پیروی کرسکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8131]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 8132
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ تُسْتَجَابُ لَهُ، وَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8132]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7474، م: 198
حدیث نمبر: 8133
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ لَمْ يُحِبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، لَمْ يُحِبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس ملنے کو پسند نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8133]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7504، م: 2685
حدیث نمبر: 8134
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ يَعْصِينِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ يُطِعْ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8134]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835
حدیث نمبر: 8135
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمْ الْمَالُ، وَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ" وَقَالَ:" وَيُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَيَقْتَرِبَ الزَّمَانُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قَالُوا: الْهَرْجُ، أَيُّمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ، الْقَتْلُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم میں مال کی ریل پیل نہ ہوجائے یہاں تک کہ مالدار آدمی ان لوگوں کو تلاش کرنے میں فکرمند ہوگا کہ جو اس کے مال کا صدقہ قبول لیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب علم اٹھا لیا جائے گا زمانہ قریب آجائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل۔ قتل۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8135]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672