🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8156
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو تو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے تم امام سے اختلاف نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8156]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 734، م: 414
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8157
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں صفیں سیدھی رکھا کرو کیونکہ صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8157]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 722، م: 435
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8158
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ؟! فَقَالَ لَهُ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ، وَاصْطَفَاكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ كَانَ قَدْ كُتِبَ عَلَيَّ أَنْ أَفْعَلَ مِنْ قَبْلِ أَنْ أُخْلَقَ؟! قَالَ: فَحَاجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السلام" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہمارے باوا ہیں آپ نے ہمیں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوادیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8158]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8159
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا، خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ: " يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أُغْنِيكَ عَمَّا تَرَى؟" قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر جبکہ وہ کپڑے اتار کر غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں پروردگار لیکن آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8159]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 279
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8160
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُفِّفَتْ عَلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام الْقِرَاءَةُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ فَتُسْرَجُ، وَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام پر قرأت کو ہلکا پھلکا کردیا گیا تھا چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسے جانے سے پہلے کتاب (زبور) پڑھ لیا کرتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8160]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3417 ، 2073
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8161
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8161]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8162
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُسَلِّمْ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوٹا بڑے کو گذرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ افراد کو سلام کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8162]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6231، م: 2160
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8163
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8163]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 21
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8164
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَاجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ سَفَلَتُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ؟ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْجَنَّةِ:" إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَةٌ أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي"، وَقَالَ لِلنَّارِ:" إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي"، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِجْلَهُ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ أَيْ: حَسْبِي، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔ اور جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8164]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4850، م: 2846
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8165
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8165]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں