مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8196
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَكُمْ الصَّانِعُ بِطَعَامِكُمْ قَدْ أَغْنَى عَنْكُمْ عَنَاءَ حَرِّهِ وَدُخَانِهِ، فَادْعُوهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَكُمْ، وَإِلَّا فَلَقِّمُوهُ فِي يَدِهِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں گرمی سردی اور مشقت سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8196]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 8197
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: رَبِّي، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، وَأَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ فَتَاتِي، وَغُلَامِي" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص آقا کے متعلق یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلاؤ اپنے رب کو کھانا کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ اسی طرح کوئی شخص اپنے آقا کو میرا رب نہ کہے بلکہ میرا سردار میرا آقا کہے اور تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی، اَمَتی بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان میرا غلام۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8197]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 8198
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ فِيهَا، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ فِيهَا، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا، آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ، وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، يُرَى مُخَّ سَاقَهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے ان کی کنگھیاں اور برتن سونے کے ہوں گے ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوگی جن کی پنڈلیوں کا گودا حسن کی وجہ سے گوشت سے باہر نظر آئے گا ان کے درمیان کوئی اختلاف اور بغض نہیں ہوگا ان سب کے دل قلب قلب واحد کی طرح ہوں گے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8198]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 8199
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ، أَوْ شَتَمْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا کہ میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8199]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 8200
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِمَنْ قَبْلَنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجَزَنَا، فَطَيَّبَهَا لَنَا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کو استعمال کرنا حلال قرار نہیں دیا گیا لیکن اللہ نے جب ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا تو اسے ہمارے لئے حلال قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8200]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
حدیث نمبر: 8201
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتْ النَّارَ امْرَأَةٌ مِنْ جَرَّاءِ هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا، تُرَمِّمُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8201]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 8202
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسْرِقُ سَارِقٌ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي زَانٍ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، وَلَا يَنْتَهِبُ أَحَدُكُمْ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَغِلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغِلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ" ، فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کوئی شخص کوئی عمدہ چیز جس کی طرف لوگ نگاہیں اٹھا کر دیکھیں لوٹتے وقت مومن نہیں ہوتا اور تم میں سے کوئی شخص خیانت کرتے وقت مومن نہیں رہتا اس لئے ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8202]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2475، م: 57، وقوله: « فإياكم إياكم » من قول أبي هريرة
حدیث نمبر: 8203
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8203]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 153
حدیث نمبر: 8204
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلْقَوْمِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8204]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 8205
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ" . قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: يَعْنِي: الْعَرْفُ: الرِّيحُ.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تر و تازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8205]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876