🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ قَطُّ؟" قَالَ: وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ:" حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ، قَالَ:" فَهَلْ أَخَذَكَ هَذَا الصُّدَاعُ قَطُّ؟" قَالَ: وَمَا هَذَا الصُّدَاعُ؟ قَالَ:" عِروْقٌ تَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ، قال: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کبھی تمہیں ام ملدم نے اپنی گرفت میں لیا ہے؟ اس نے کہا کہ ام ملدم کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا جسم اور گوشت کے درمیان حرارت کا نام ہے اس نے کہا کہ میں نے تو اپنے جسم میں کبھی یہ چیز محسوس نہیں کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں کبھی صداع نے پکڑا ہے؟ اس نے پوچھا کہ صداع سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ رنگیں جو انسان کے سر میں چلتی ہیں (اور ان کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے) اس نے کہا کہ میں نے اپنے جسم میں کبھی یہ تکلیف محسوس نہیں کی جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس شخص کو دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8395]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن وفي متنه نكارة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8396
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی ٧١ یا ٧٢ فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور میری امت ٧٣ فرقوں میں بٹ جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8396]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8397
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ رَدُّ التَّحِيَّةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا دعوت کو قبول کرنا جنازے میں شرکت کرنا مریض کی بیمار پرسی کرنا چھینک کا جواب دینا جبکہ چھینکنے والا الحمدللہ کہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8397]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8398
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ، قَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فقَال: وَعِزَّتِكَ، لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَحُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا"، قَالَ:" فَرَجَعَ إِلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ قَدْ حُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فقَالَ: وَعِزَّتِكَ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَد، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى النَّارِ، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، فجاءَها، فَنَظَر إليها وإلى ما أعَّد لأهلها فيها، فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَرَجَعَ فقَالَ، وَعِزَّتِك، لَا يَسْمَعَ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا، فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ، فر جع إليه قَالَ: وَعِزَّتِكَ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ جا کر اسے دیکھ آؤ اور میں نے اس میں جو چیزیں تیار کی ہیں وہ بھی دیکھ آؤ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور جنت اور اس میں مہیا کی گئی نعمتوں کو دیکھا اور واپس آکر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ آپ کی عزت کی قسم اس کے متعلق جو بھی سنے گا اس میں داخل ہونا چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے ناپسندیدہ اور ناگوار چیزوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا اللہ نے فرمایا اب جا کر اسے اور اس کی نعمتوں کو دیکھ کر آؤ چنانچہ وہ دوبارہ گئے اس مرتبہ وہ ناگوار امور سے ڈھانپ دی گئی تھی وہ واپس آکر عرض رسا ہوئے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوسکے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ جا کر جہنم اور اہل جہنم کے لئے تیار کردہ سزائیں دیکھ کر آؤ جب وہ وہاں پہنچے تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھے جا رہا تھا واپس آکر کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم کوئی شخص بھی جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہونا نہیں چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا اس مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے تو اندیشہ ہے کہ اب کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8398]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8399
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَجُلَانِ مِنْ بَلي حي مِنْ قُضَاعَةَ أَسْلَمَا مَعَ رسولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، وَاسْتُشْهِدَ أَحَدُهُمَا، وَأُخِّرَ الْآخَرُ سَنَةً، قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: فَأُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ فِيهَا الْمُؤَخَّرَ مِنْهُمَا أُدْخِلَ قَبْلَ الشَّهِيدِ، فَعَجِبْتُ لِذَلِكَ، فَأَصْبَحْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ وَصَلَّى سِتَّةَ آلَافِ رَكْعَةٍ أَوْ كَذَا وَكَذَا رَكْعَةً صَلَاةَ السَّنَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قبیلہ قضاعہ کے ایک خاندان " بَلِی " کے دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ان میں سے ایک صاحب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اپنی طبعی موت مرنے والا اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ عرصہ قبل ہی جنت میں داخل ہوگیا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے چھ ہزار رکعتیں نہیں پڑھیں اور ماہ رمضان کے روزے نہیں رکھے اور اتنی سنتیں نہیں پڑھیں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8399]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8400
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ وَهُمْ حَيٌّ مِنْ قُضَاعَةَ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8400]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا الإسناد فيه انقطاع، أبو سلمة لم يدرك طلحة، ولكن الواسطة بينهما أبو هريرة، فيكون الإسناد متصلا ، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، قَالَ: تُوُفِّيَ بَعْضُ كَنَائِنِ مَرْوَانَ، فَشَهِدَهَا النَّاسُ وَشَهِدَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ، وَمَعَهَا نِسَاءٌ يَبْكِينَ، فَأَمَرَهُنَّ مَرْوَانُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ، فَإِنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةٌ مَعَهَا بَوَاكٍ فَنَهَرَهُنَّ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَالْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالْعَهْدَ حَدِيثٌ" .
عمروبن ازرق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان کے خاندان میں کوئی خاتون فوت ہوگئی لوگ جنازے میں آئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے جنازے کے ساتھ روتی ہوئی خواتین بھی تھیں مروان انہیں خاموش کرانے کا حکم دینے ہی لگا تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا جس کے ساتھ کچھ رونے والیاں بھی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ ان پر رحم فرمائے انہیں جھڑکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو کیونکہ دل مصیبت زدہ ہے آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں اور زخم ابھی ہرا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8401]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ابن الأزرق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، جَعَلَ يَدْعُو بُطُونَ قُرَيْشٍ بَطْنًا بَطْنًا" يَا بَنِي فُلَانٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّار" حَتَّى انْتَهَى إِلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کر کے قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے بنو فلاں اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ حتی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ تک پہنچے تو ان سے بھی فرمایا فاطمہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8402]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ" يَا بِلَالُ، خَبِّرْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ مَنْفَعَةً فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ" قَالَ: مَا عَمِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا قَطُّ فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ لِرَبِّي مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال مجھے اپنا کوئی ایسا عمل بتاؤ جو زمانہ اسلام میں کیا ہو اور تمہیں اس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ اپنے آگے سنی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں نے دن یا رات کے جس حصے میں بھی وضو کیا اس وضو سے حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8403]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8404
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي النَّوْفَلِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ذَكَرَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ دُونَهُ سِتْرٌ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوء" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کی طرف لے جائے اور درمیان میں کوئی کپڑا نہ ہو تو اس پر وضواز سر نو واجب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8404]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيي ابن يزيد وأبوه ضعيفان، وهما متابعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں