مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8385
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا لِيُوَدِّعَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" : أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَف" , فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبَعِيدَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8385]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8386
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا؟ فَقِيلَ لَهُ: وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ، قَالُوا: وَعَمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: " تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَيَشُدُّ اللَّهُ عزّ وجَّل قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَيَمْنَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِم" وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَيَكُونَنَّ مَرَّتَيْنِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے کرتے تھے کہ اس وقت کا کیا عالم ہوگا جب تم دینار اور درہم کے ٹیکس اکھٹے نہ کرسکو گے؟ کسی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا بھی ہوگا؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ دیا جائے گا پھر اللہ بھی ذمیوں کا دل سخت کردے گا اور وہ اپنے مال و دولت کو روک لیں گے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے ایسا ہو کر رہے گا (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8386]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، علقه البخاري: 3180
حدیث نمبر: 8387
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَاذَانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوان سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8387]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562
حدیث نمبر: 8388
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَل ِمنْ ذَهَب، أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَيُقْتَلَ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ" يَا بُنَيَّ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ، فَلَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر سو میں سے ننانوے آدمی مارے جائیں گے بیٹا اگر تم وہ زمانہ پاؤ تو اس کی خاطر لڑنے والوں میں سے نہ ہونا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8388]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2894
حدیث نمبر: 8389
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ الْمَهْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا مَهْرِيُّ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ، وَكَسْبِ الْمُومِسَةِ، وَعَنْ كَسْبِ عَسْبِ الْفَحْلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے اور سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8389]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2283، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الفضل و معاوية
حدیث نمبر: 8390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا، غَفُورًا رَحِيمًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے مثلا علیماً حکیماً غفوراً رحیما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8390]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بَنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شریف ابن شریف ابن شریف حضرت یوسف بن یعقوب بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8391]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8392
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، ثُمَّ جَاءَنِي الدَّاعِي، لَأَجَبْتُهُ، إِذْ جَاءَهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ: مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ. وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ، إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً، أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَمَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ" .
اور فرمایا کہ اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا جب کہ ان کے پاس قاصد پہنچا تو انہوں نے فرمایا اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے یہ تو پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے میرا رب ان کے مکر سے خوب واقف ہے اور حضرت لوط علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ کسی مضبوط ستون کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کاش کہ میرے پاس تم سے مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط ستون کا سہارا لے لیتا ان کے بعد اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا انہیں اپنی قوم کے صاحب ثروت لوگوں میں سے بنایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8392]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3387، م: 151
حدیث نمبر: 8393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ الْفَأْلَ الْحَسَنَ، وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال کو پسند اور بدشگونی کو ناپسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8393]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 8394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں ممکن ہے کہ تم میں سے بعض لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ چرب لسان ہوں اس لئے جس شخص کو (اس چرب لسانی میں آکر) میں اس کے بھائی کا کوئی حصہ کاٹ کر دوں تو وہ سمجھ لے کہ میں اسے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8394]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن