🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8415
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ، خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا، وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندہ مومن کو وہ سزائیں معلوم ہوجائیں جو اللہ نے تیار کر رکھی ہیں تو کوئی بھی جنت کی طمع نہ کرے (صرف جہنم سے بچنے کی دعا کرتے رہیں) اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا اندازہ ہوجائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہ ہو اللہ نے سو رحمتیں پیدا فرمائی ہیں ایک رحمت اپنے بندوں کے دل میں ڈال دی ہے جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8415]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2752
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8416
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ مَوْلَى عَقِيلَةَ بِنْتِ طَلْقٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُسَوِّرْهُ بِسِوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ، الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا، الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے کسی دوست کو جہنم کی آگ کا طوق پہنانا چاہئے اسے سونے کا ہار پہنا دے اور جو اسے آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے اور جو اسے آگ کا چھلا پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے البتہ چاندی استعمال کرلیا کرو اور اس کے ذریعے ہی دل بہلا لیا کرو (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8416]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8417
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَال: " الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تمہیں غور کرلینا چاہئے کہ تم کسے اپنا دوست بنا رہے ہو؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8417]

الحكم على الحديث:
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8418
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا: ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سورة الأحزاب آية 6 فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ هَلَكَ وَتَرَكَ مَالًا، فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي، فَإِنِّي مَوْلَاهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو النبی اولی بالمومنین من انفسہم اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8418]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2399، م: 1619
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8419
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّة، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَوْ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ" شَكَّ أَبُو عَامِرٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کے راستہ میں ہجرت کرے یا اپنے وطن مولود میں ہی بیٹھا رہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم لوگوں کو یہ بات نہ بتادیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جہنیں اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے جب تم اللہ سے جنت مانگا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ جنت کا مرکز اور سب سے اعلیٰ ترین حصہ ہے اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8419]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد وهم فليح فى حال تحديثه لأبي عامر فى رواية هذا الحديث عن عبدالرحمن عن أبي هريرة، وانظر ما بعده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8420
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَوْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ , قَالَ: فُلَيْح: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ"، وَقَالَ: أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟ قَال: ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ فَلَمْ يَشُكَّ يَعْنِي فُلَيْحًا، قالَ: عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ.

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا هو الصواب فى رواية فلیح عن ھلال، عن عطاء، عن أبي هريرة ، وانظر ما قبله وما بعده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8421
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَهُ، وَقَالَ:" وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8421]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8422
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْعُمُرِ، وَالْمَالِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8422]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6420، م: 1046، وهذا الإسناد فيه فليح، وفيه كلام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8423
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا: ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَزَاوَرُونَ فِيهَا"، قَالَ سُرَيْجٌ:" لَيَتَرَاءَوْنَ فِيهَا كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَب الدََََََََََُرّيَّ، والكَوكبَ الشَّرْقِيَّ، وَالْكَوْكَبَ الْغَرْبِيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ الطَّالِعَ، فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ"، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّه، أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ؟ قَالَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، أَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ" . وَقَالَ سُرَيْج:" وأَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت ایک دوسرے کو جنت میں اسی طرح دیکھیں جیسے تم لوگ روشن ستارے کو مشرقی اور مغربی ستارے کو مختلف درجات میں کم وبیش دیکھتے ہو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہ لوگ انبیاء کرام رضی اللہ عنہ ہوں گے؟ فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8423]

الحكم على الحديث:
متن الحديث صحيح لكن من حديث أبي سعيد، ولعل فليحا أخطأ، فجعله من حديث أبي هريرة، خ: 3256، م: 2831
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8424
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ، وَلَا حُزْنٍ، وَلَا غَمٍّ، وَلَا أَذًى، حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو جو پریشانی اور تکلیف دکھ اور غم اور ایذا پہنچتی ہے حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8424]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5641، م: 2573
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں