مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8535
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّة، خُلُودًا فَلَا مَوْتَ فِيهِ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُودًا فَلَا مَوْتَ فِيهِ" ، قَالَ: وَذَكَرَ لِي خَالِدُ بْنُ يزَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ مِثْلَهُ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، إِلَّا أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْهُمَا: أَنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الشَّفَاعَاتِ وَمَنْ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو ایک منادی آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت تم ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی اور اے اہل جہنم تم بھی ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8535]
الحكم على الحديث:
صحیح ، وإسنادہ قوي ، خ : 6545
حدیث نمبر: 8536
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ فِي الْجَنَّةِ مَنْزِلًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات یا بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کامیاب ہوگیا تیرا چلنا بہت اچھا ہوا اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8536]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لضعف أبي سنان
حدیث نمبر: 8537
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ" ، قَالَ: فَلَمَّا أُعْتِقَ أَبُو رَافِعٍ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: كَانَ لِي أَجْرَانِ، فَذَهَبَ أَحَدُهُمَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ابو رافع کو آزاد کیا گیا تو وہ رونے لگے کسی نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجھے دو اجر ملتے تھے اب ان میں سے ایک ختم ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8537]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2549 ، م : 1666
حدیث نمبر: 8538
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَإِذَا عَرَجَتْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَهُمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ عِبَادِكَ أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَجِئْنَاكَ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَإِذَا عَرَجَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَهُمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ عِبَادٍك، أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَجِئْنَاكَ وَهُمْ يُصَلُّونَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکھٹے ہوتے ہیں جب دن کے فرشتے آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے پھر جب رات کے فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھتا ہے کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس سے آئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8538]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 555 ، م : 632
حدیث نمبر: 8539
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ) آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8539]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 8540
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَنَّ أَبَا حَصِينٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: " لَا أَجِدُهُ"، قَالَ:" هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدًا فَتَقُومَ لَا تَفْتُرُ، وَتَصُومَ لَا تُفْطِرُ؟" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ يَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا کوئی عمل نہیں ملتا کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جس وقت کوئی مجاہد روانہ ہو تو تم مسجد میں داخل ہو کر قیام کرلو اور اس میں کوتاہی نہ کرو اور اس طرح روزہ رکھو کہ بالکل افطار نہ کرو؟ اس نے کہا کہ میرے اندر اتنی طاقت نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8540]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
حدیث نمبر: 8541
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَال: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا"، أَوْ قَالَ" اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً"، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ" وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ .
ابوحبیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے ان دنوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرنے کی اجازت طلب کر رہے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میرے بعد فتنوں اور اختلافات کا سامنا کروگے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ہمارا کون ذمہ دار ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے امیر اور اس کے ساتھیوں کی ہمراہی کو لازم پکڑنا یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا:۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8541]
الحكم على الحديث:
إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8542
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ زَوْجَتَانِ مِنْ حُورِ الْعِينِ، عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ الثِّيَابِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی ہر ایک کے اوپر ستر جوڑے ہوں گے اور جن کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8542]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3254 ، م : 2834
حدیث نمبر: 8543
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک کبوتری کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کہ ایک شیطان دوسری شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8543]
الحكم على الحديث:
إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8544
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيَّ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کرلیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اس کے بعد سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8544]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 21