🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8545
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ يَسَارٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ: مَعَ الَّذِي قُلْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا" .
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8545]

الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف ، فیه ثلاث علل : اضطراب إسنادہ ، وجھالة بعض رواته ، و روایة بعضھم له موقوفا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8546
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ" مَرَّتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَلَا تُكَلِّفُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے اس لئے تم اپنی جانوں کو ایسے عمل میں مت تکلیف دو جس کی برداشت کی تم میں طاقت نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8546]

الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 1966 ، م : 1103 ، وھذا إسناد فیه حیان والد سلیم مجھول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8547
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ زَرْعٍ وَلَا صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" ، قَالَ سُلَيْمٌ: وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ:" وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کی علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی (اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8547]

الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 2322 ، م : 1575 ، وإسنادہ ضعیف لجھالة والد سلیم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8548
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَكْذَبُ، أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ، الصَّبَّاغِينَ وَالصَّوَّاغِينَ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" إِنَّ مِنْ أَكْذَبِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑھ کر جھوٹے لوگ رنگریز اور زگر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8548]

الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لضعف فرقد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8549
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8549]

الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 365 ، م : 515
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8550
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَال: سَمِعْتُ ثَابِتًا ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ فِي الدُّنْيَا عِنْدَ إِفْطَارِهِ، وَفَرْحَةٌ فِي الْآخِرَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے ایک خوشی آخرت میں ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8550]

الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، الإسناد الأول حسن ، والثاني صحیح ، خ : 7492 ، م : 1151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8551
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا: ہے کہ وہ جسم کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8551]

الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لضعف عسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8552
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خُثَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، وَقَدْ اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: بْ كهيعص 65، وَفِي الثَّانِيَةِ: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِنَفْسِي: وَيْلٌ لِفُلَانٍ، إِذَا اكْتَالَ اكْتَالَ بِالْوَافِي، وَإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِصِ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى زَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى أَتَيْنَا خَيْبَرَ، وَقَدْ افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، قَالَ: فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَشْرَكُونَا فِي سِهَامِهِمْ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ قبول اسلام کے لئے اپنی قوم کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر گئے ہوئے تھے اور مدینہ منورہ پر سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں سورت مریم اور دوسری میں سورت مطففین کی تلاوت فرمائی میں نے دل میں کہا کہ فلاں آدمی تو ہلاک ہوگیا کیونکہ جب وہ دوسروں سے ناپ کرل یتا ہے تو پورا پورا لیتا ہے اور جب دوسروں کو دیتا ہے تو گھٹا کردیتا ہے۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہمیں کچھ زاد راہ مرحمت فرمایا: یہاں تک کہ ہم خیبرپہنچ گئے اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو فتح فرما چکے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے بات کر کے ہمیں بھی مال غنیمت کے حصے میں شریک فرما لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8552]

الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8553
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ، فَإِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ إِذَا شَاءَ أَنْ يُزَالَ زَالَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقامی پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ مسافر پڑوسی سے تو آدمی جس وقت جدا ہونا چاہے ہوسکتا ہے (مقامی اور رہائشی پڑوسی سے نہیں ہوسکتا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8553]

الحكم على الحديث:
إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8554
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عزَّ وجلَََََََََِّ: فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ سورة يوسف آية 50، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے کی تفسیر میں فرمایا: کہ اگر میں اتناعرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر مجھے نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8554]

الحكم على الحديث:
صحیح ، وھذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں