مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8573
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8573]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2559 ، م : 2612
حدیث نمبر: 8574
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8574]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 291 ، م : 348
حدیث نمبر: 8575
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ صِيَامَهُ، فَلْيَصُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8575]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 1914 ، م : 1082
حدیث نمبر: 8576
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" ، قَالَ عَفَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبَانُ L18 فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8576]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 35 ، م : 760
حدیث نمبر: 8577
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ، فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَوَضَّأَ قَدَمَيْه" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ وضو کیا تو اس میں تین مرتبہ کلی کی تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا تین مرتبہ چہرہ دھویا تین مرتبہ ہاتھ دھوئے سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں دھوئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8577]
الحكم على الحديث:
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8578
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8578]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وإسنادہ منقطع ، فإن عطاء لم یدرك عثمان ، و انظر ما قبله
حدیث نمبر: 8579
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَهْجُرُ امْرَأَةٌ فِرَاشَ زَوْجِهَا، إِلَّا لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تاآنکہ وہ واپس آجائے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8579]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 5194 ، م : 1436
حدیث نمبر: 8580
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ تُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8580]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 26 ، م : 83 ، وھذا إسناد ضعیف ، أبو جعفر مجھول ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8581
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَهُنَّ، لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعاء اور باپ کی اپنے بیٹے کی متعلق دعاء۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8581]
الحكم على الحديث:
حسن لغیرہ ، و إسنادہ ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 8582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عِسْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ السَّدْلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا: ہے کہ وہ جس کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8582]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لضعف عسل