مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8603
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ، كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ، كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہماری اس مسجد میں خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جسے دیکھنے کا اسے کوئی حق نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8603]
الحكم على الحديث:
حدیث ضعیف ، و اختلف علی سعید المقبري في إسنادہ ، و حمید مختلف فیه
حدیث نمبر: 8604
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي جَبْهَتِهِ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا سورج آپ کی پیشانی پر چمک رہا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی ہے ہم اپنے آپ کو بڑی مشقت میں ڈال کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پاتے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مشقت کا کوئی اثر نظر نہ آتا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8604]
الحكم على الحديث:
حدیث حسن ، ابن لھیعة ، وإن کان سیئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 8604M
وَعَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطُوا الْعَامِلَ مِنْ عَمَلِهِ، فَإِنَّ عَامِلَ اللَّهِ لَا يَخِيبُ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری دے دیا کرو کیونکہ اللہ کا مزدور رسوا نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8604M]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف من أجل ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8605
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت لوط علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ کسی مضبوط ستون کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8605]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 3387 ، م : 151 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8606
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ بِخَلِفَتَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَم، قَالَ:" فَآيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيَخْرُجُ بِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ خَلِفَتَيْنِ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس دو حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قرآن کریم کی دو آیتیں لے کر اپنے گھر لوٹتا ہے اس کے لئے وہ دو آیتیں دو حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8606]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، م: 802 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8607
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ، فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ أَحَدُكُمْ، انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور موت آنے سے قبل اس کی دعاء نہ کرے الاّ یہ کہ اسے اپنے اعمال پر بہت زیادہ ہی بھروسہ ہو کیونکہ تم میں سے کوئی بھی جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں جبکہ مومن اپنی زندگی میں خیر ہی کا اضافہ کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8607]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح دون قولہ : إلا أن یکون قد وثق بعمله ، خ : 7235 ، م : 2682 ، وإنھا زیادۃ منکرۃ ، وابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8608
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ، فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَة، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص پر ہر دن میں جس میں سورج طلوع ہو صدقہ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے کسی آدمی کی مدد کرکے اسے سواری پر بٹھا دینا اور اس کا سامان اسے پکڑا دینا صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے اٹھنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8608]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 2707 ، م : 1009 ، و ھذا إسناد فیه ابن لھیعة ، لکنه قد توبع
حدیث نمبر: 8609
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، أَوْ نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَا يُؤْمِنُ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ" .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8609]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، م : 153 ، وھذا إسناد ضعیف ، فیه ابن لھیعة ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8610
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: كَذَّبَنِي عَبْدِي، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ لِيُكَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي عَبْدِي، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَتْمِي، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ، فَيَقُولُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَالَّذِي بَدَأَنِي، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ أَهْوَنُ عَلَيَّ أَنْ أُعِيدَهُ مِنْ أَوَّلِهِ، فَقَدْ كَذَّبَنِي إِنْ قَالَهَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاي، فَيَقُولُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، أَنَا اللَّهُ أَحَدٌ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے۔ حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برابھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا حالانکہ میرے لئے دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے (دونوں برابر ہیں) اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8610]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 4975 ، وھذا إسناد ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 8611
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تب بھی طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8611]
الحكم على الحديث:
حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لضعف ابن لھیعة