مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8622
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْثِرْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو ناک کو اچھی طرح صاف کرلے کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسے پر رات گذارتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8622]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 3295 ، م : 238 ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وھو متابع
حدیث نمبر: 8623
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8623]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، و أبو تمیم مجھول ، وقد صح الحدیث بلفظ : «... فلا صلاۃ إلا المکتوبة» ، م : 710
حدیث نمبر: 8624
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وقَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَلَعَاتِ الْيَمَنِ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَت، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ هَذَا يَقِينًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یمن کے کسی بالائی حصے میں تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دینے کے لئے کھڑے ہوئے جب وہ اذان دے کر خاموش ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بلال کے کہے ہوئے کلمات کی طرح یقین قلب کے ساتھ یہ کلمات کہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8624]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد محتمل للتحسین
حدیث نمبر: 8625
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ مِنْ بَعْدِ الصَّلَاة، كَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى كَشْحِهِ، تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ اللَّهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومُ، وَهُوَ فِي الرِّبَاطِ الْأَكْبَرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا آدمی اس مجاہد کی طرح ہوتا ہے جس کا گھوڑا اللہ کے راستہ میں اپنے پہلو پر تیار کھڑا ہو اس کے لئے اللہ کے فرشتے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے کھڑا نہ ہوجائے اور وہ رباط اکبر سب سے اہم چوکیداری میں شمار ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8625]
الحكم على الحديث:
إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ بِهَذَا الرَّمْلِ، فَلَا نَجِدُ الْمَاء، وَيَكُونُ فِينَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَاءُ، فَيَأْتِي عَلَيْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لَا تَجِدُ الْمَاءَ! قَالَ:" عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ" ، يَعْنِي التَّيَمُّمَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں چار پانچ مہینے تک مسلسل صحرائی علاقوں میں رہتا ہوں ہم میں حیض و نفاس والی عورتیں اور جنبی مرد بھی ہوتے ہیں (پانی نہیں ملتا) تو آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: مٹی کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی تیمم کرلیا کرو) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8626]
الحكم على الحديث:
حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لأجل المثنی
حدیث نمبر: 8627
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أنه قَالَ: " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امراء چوہدریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے ہلاکت ہے یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ ان کی چوٹیاں ثریا ستارے سے لٹکی ہوتیں اور یہ آسمان و زمین کے درمیان تذبذب کا شکار ہوتے لیکن کسی ذمہ داری پر کام نہ کیا ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8627]
الحكم على الحديث:
إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8628
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، قَالَ: فَصَفَّهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا , فَقَالَ لِي: " اجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدٍ، فأَدْخِلْ يَدَكَ وَلَا تَنْثُرْهُ"، قَالَ: فَحَمَلْتُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ، وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِي فَسَقَطَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں کچھ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ ان میں برکت کی دعاء کردیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکھیر کر اپنے ہاتھ پر رکھا اور دعاء کرکے فرمایا: کہ انہیں اپنے توشہ دان میں ڈال لو اور ہاتھ ڈال کر اس میں کھجوریں نکالتے رہنا اسے الٹا کرکے جھاڑنا نہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس میں سے کتنے ہی وسق نکال نکال کر اللہ کے راستہ میں دئیے ہم خود بھی کھاتے کھلاتے رہے اور میں اس تھیلی کو اپنے سے کبھی جدا نہ کرتا تھا لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ کہیں گر کر گم ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8628]
الحكم على الحديث:
إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8629
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يعني ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا لبیک الہ الحق۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8629]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8630
حَدَّثَنَا حُجَيْن بن المثُنى أَبُو عُمَرَ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ، حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ، وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8630]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف ، مکحول لم یسمع من أبي ھریرۃ ، و منصور مجھول
حدیث نمبر: 8631
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ بن المثنى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَإِذَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ لَهُ أَخُوه: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِذَا قِيلَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمدللہ کہے۔ دوسرا مسلمان بھائی اس کی الحمدللہ سن کر اسے یرحمک اللہ کہے پھر چھینکنے والا یھدیکم اللہ و یصلح بالکم کہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8631]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 6224