🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8672
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَعْفُوا اللِّحَى، وَخُذُوا الشَّوَارِبَ، وَغَيِّرُوا شَيْبَكُمْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو اور اپنے بالوں کا سفید رنگ تبدیل کرلیا کرو البتہ یہود و نصاری کی مشابہت اختیار نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8672]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5893، 5899، م: 2103، 259
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8673
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِأَنْفُسِهِمْ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِمَوَالِي عَصَبَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا أَوْ كَلًّا، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلَا دَاعِيَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے وہ میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8673]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6745، م: 1619
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8674
وقَالَ وقَالَ أَسْوَدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَفْسُقْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8674]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8675
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا نماز جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8675]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8676
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، قَالَ إِسْحَاقُ: الْمَدِيني، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يقوَلَ: " إِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُنَفِّلَةَ، فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ، وَإِنْ تَغْنَمْ تَغُلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے خوشبو دار گھاس کھا کر موٹے ہونے والے گھوڑوں کے استعمال سے بچو کیونکہ اگر ان کا دشمن سے سامنا ہو تو وہ بھاگ جاتے ہیں اور اگر مال غنیمت مل جائے تو خیانت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8676]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وأبوه مستور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8677
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تب بھی طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8677]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8678
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهَا دِينَارَانِ، فَأَخَذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ، وَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا، وَلَفَّ عَلَيْهِمَا، فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ، فَوَجَدُوا الدِّينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَيَّتَان" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے غزوہ خیبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اسے دو دینار اپنے حصے میں سے ملے اس نے انہیں لے کر اپنی عباء میں رکھ کر سی لیاجب وہ فوت ہوا تو لوگوں کو وہ دو دینار ملے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8678]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8679
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّكْبِيرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَخَمْسًا بَعْدَ الْقِرَاءَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیدین میں سات تکبیرات قرأت سے پہلے (پہلی رکعت میں) ہیں اور پانچ تکبیرات قرأت کے بعد دوسری رکعت میں ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8679]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8680
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ رَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَوُقُودُهُمْ الْأَلُوَّةُ" ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا الْأَلُوَّةُ؟ قَالَ: الْعُودُ الْهِنْدِيُّ الْجَيِّدُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل جنت کا پسینہ مشک کی طرح خوشبو دار ہوگا اور ان کی انگیٹھیوں میں عود ہندی ڈالا جائے گا (جس سے ہر چارسو فضا معطر ہوجائے گی) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8680]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8681
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرُوا الْكَمَأَةَ، فَقَالُوا: هِيَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، وَمَا نَرَى أَكْلَهَا يَصْلُح، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " الْكَمَأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8681]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں