🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8692
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوَفِّهِ أَجْرَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تین قسم کے آدمی ایسے ہیں قیامت کے دن جن کا خصم میں ہوں گا اور جس کا خصم میں ہوں میں اس پر غالب آجاؤں گا ایک تو وہ آدمی جو میرے ساتھ کوئی وعدہ کرے پھر مجھے دھوکہ دے (وعدہ خلافی کرے) دوسرا وہ آدمی جو کسی آزاد آدمی کو بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھاجائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی شخص سے مزدوری کروائے مزدوری تو پوری لے لیکن اس کی اجرت پوری نہ دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8692]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2227
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8693
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنْ السَّبْقِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8693]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا سند ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8694
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَدَّعَ أَحَدًا، قَالَ: " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو رخصت کرتے تو یوں فرماتے کہ میں تمہارا دین، امانت اور اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8694]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضِّئْنِي، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا! قَالَ:" إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ مجھے وضو کراؤ چنانچہ میں وضو کا پانی لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے استنجاء کیا پھر اپنے ہاتھ مٹی میں ڈال کر ان پر مٹی ملی پھر انہیں دھویا پھر مکمل وضو کیا آخر میں موزوں پر بھی مسح فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے پاؤں نہیں دھوئے؟ فرمایا میں نے وضو کی حالت میں یہ موزے پہنے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8695]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبان فى حفظه لين، والراوي عن أبى هريرة مبهم، ويشهد لمسح الخفين بنحو هذا اللفظ حديث المغيرة عند البخاري: 5799، ومسلم: 274
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يعنى" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى، وَأَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا، وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ابن آدم میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلے میں تیرے سینے کو مالداری سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کے آگے بند باندھ دوں گا اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے میں مصروفیات بھر دوں گا اور تیرا فقر زائل نہ کروں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8696]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8697
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا اس وقت تک فناء نہ ہوگی جب تک کہ زمام حکومت کمینہ ابن کمینہ کے ہاتھ میں نہ آجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8697]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8698
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ يَعْنِي هُمْ الْأَقَلُّونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قلت کا شکار ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8698]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8699
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8699]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 9420، م: 1046
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8700
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ، كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے ' لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8700]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3194، م: 2751
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8701
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ، تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، وَمَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَر، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی سرخ رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8701]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبيدالله فى عداد المجهولين، ومحمد بن عبدالله مثله ، وفليح ليس بذاك ، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں