مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8652
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَبِسْتُمْ، وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ، فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ" ، وَقَالَ أَحْمَدُ:" بِمَيَامِنِكُمْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لباس پہنا کرو یا وضو کیا کرو تو دائیں جانب سے ابتداء کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8652]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8653
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ طَعَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ، وَالْمَاءُ، وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَرَى سَمْرَاءَكُمْ هَذِهِ، وَلَا نَدْرِي مَا هِيَ، وَإِنَّمَا كَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّمَارَ، يَعْنِي بُرْدَ الْأَعْرَابِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارا کھانا صرف دو کالی چیزیں کھجور اور پانی ہوتے تھے واللہ ہم نے تمہارے یہ گیہوں کبھی دیکھے تھے اور نہ ہمیں اس کا پتہ تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارا لباس دیہاتیوں کی چادریں ہوا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8653]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 8654
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8654]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لجھالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8655
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8655]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 6155 ، م : 2257 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف شریك ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8656
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنِّي لَشَاهِدٌ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَهَاهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ لَا ظُرُوفَ لَهُمْ! قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يَرْثِي لِلنَّاسِ، قَالَ: فَقَالَ " اشْرَبُوا مَا طَابَ لَكُمْ، فَإِذَا خَبُثَ فَذَرُوهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بنو عبدالقیس کے وفد کا عینی شاہد ہوں وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حنتم دباء مزفت اور نقیر نامی برتنوں میں مشروبات پینے سے منع فرمایا: اس پر ان میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! لوگوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہیں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ آپ کو لوگوں پر افسوس ہو رہا ہے پھر فرمایا: اگر یہ برتن صاف ہوں تو ان میں پی لیا کرو اور اگر گندے ہوں تو چھوڑ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8656]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لضعف شھر و لجھالة حفص
حدیث نمبر: 8657
حَدَّثَنَا الأسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ دَوَاءً" ، قَالَ حَمَّادٌ : وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (اسے استمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8657]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 5782 ، له إسنادان : الأول منقطع ، فإن ثمامة لم یسمع من أبي ھریرۃ ، والثاني صحیح
حدیث نمبر: 8658
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَرَى أَنْ تَبْلُغَ حَيْثُ بَلَغَتْ، يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے اور اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ بات اس حد تک پہنچ سکتی ہے لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8658]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 6478 ، وھذا إسناد ضعیف ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 8659
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه صلى الََََََََََّلهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَِ: " مَنْ قَتَلَ الْوَزَغَ فِي الضَّرْبَةِ الْأُولَى، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِن حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا" ، قَالَ سُهَيْلٌ: الْأُولَى أَكْثَر.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پہلی ضرب میں ہی چھپکلی کو مار ڈالے اسے اتنی نیکیاں ملیں گی جو دوسری ضرب میں مارے اسے اتنی نیکیاں ملیں گی اور جو تیسری ضرب میں مارے اسے اتنی نیکیاں ملیں گی سہیل کہتے ہیں کہ ہر پہلی مرتبہ نیکیوں کی تعداد زیادہ ہوگی [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8659]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، م : 2240
حدیث نمبر: 8660
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَال لي أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" تَقُولُ: لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے میں نے کہا ضرور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہا کرو لا حول و لا قوۃ الا باللہ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8660]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8661
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَان، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: لا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ نے مال و دولت دیا ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو دھاریں ہوں گی " بنادیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر اسے چبانے لگے گا اور اس سے کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنا فضل عطاء فرما رکھا ہو اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ مت سمجھیں۔۔۔۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8661]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6958 ، م : 987