🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8982
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْدُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتْبَعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی سواریاں نہیں پاتا جن پر انہیں سوار کرسکوں اور وہ اتنی وسعت نہیں پاتے کہ وہ میری پیروی کرسکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8982]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8983
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8983]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8984
حَدَّثَنَا عَفَّانٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، وَتَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھاجائے گی اور وہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردے گی جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8984]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8985
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: مَا الْغِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي أَخِيكَ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیبت کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس کو ناپسند ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتایئے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8985]

الحكم على الحديث:
احديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8986
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ، فَقَالَ لِلرُّسُولِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا يَفْرُغُونَ جَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ , فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ! فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ صَدَقَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَوْمُ الدَّهْرِ" فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ، وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ابوعثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چنانچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا پورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چنانچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگنا کرنے) کے سائے تلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8986]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8987
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ لُوطٍ: لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ سورة هود آية 80، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَا بُعِثَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوان لی بکم قوۃ۔۔۔۔ کی تفسیر میں فرمایا حضرت لوط علیہ السلام کسی مضبوط ستون " کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے ان کے بعد اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا انہیں اپنی قوم کے صاحب ثروت لوگوں میں سے بنایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8987]

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: « فما بعث ۔۔۔ الخ » ، فهذا إسناد حسن، خ: 3387، م: 151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8988
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ رَضِيَتْ فَلَهَا رِضَاهَا، وَإِنْ كَرِهَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا" يَعْنِي الْيَتِيمَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کنواری بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کے متعلق اجازت لی جائے گی) اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور ہوگی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8988]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8989
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ بِخَيْرٍ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے جو بندہ مسلم فوت ہوجائے اور اس کے تین قریبی پڑوسی اس کے لئے خیر کی گواہی دے دیں اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کی شہادت ان کے علم کے مطابق قبول کرلی اور اپنے علم کے مطابق جو جانتا تھا اسے پوشیدہ کر کے اسے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8989]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام الشيخ البصري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8990
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ:" لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ، رَجَاءَ أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَيَّ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" قَاتِلْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يُفْتَحَ عَلَيْكَ"، فَسَارَ قَرِيبًا، ثُمَّ نَادَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، علَى ماَ أُقَاتِلُ؟ قَالَ: " حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اسی کے ہاتھ پر یہ قلعہ فتح ہوگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے قبل کبھی امارت کا شوق نہیں رہا میں نے اس امید پر کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا میرے حوالے کردیں اپنی گردن بلند کرنا اور جھانکنا شروع کردیا لیکن جب اگلا دن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بلا کر وہ جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور فرمایا ان سے قتال کرو اور جب تک فتح نہ ہوجائے کسی طرف توجہ نہ کرو۔ چنانچہ وہ روانہ ہوگئے ابھی کچھ ہی دورگئے تھے کہ پکار کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کب تک قتال کروں؟ فرمایا یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جب وہ ایسا کرلیں تو انہوں نے اپنے جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا سوائے اس کلمے کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8990]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2405
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8991
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ: " قَدْ جَاءَكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، يُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَيُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ رہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8991]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفيه أبو قلابة، ورايته عن أبي هريرة مرسلة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں