🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9012
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْكَعْبَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9012]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9013
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ وہ واپس آجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9013]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9014
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ لَهُ، فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ الدَّهْرَ كُلَّهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے اس سے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کے بدلے میں قبول نہیں کئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9014]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة المطوّس وأبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9015
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، وَقَالَ: أَبُو عَوَانَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي، وَالْأَمِيرُ مِجَنٌّ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ ذَلِكَ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَكُمْ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ اور امیر کی حیثیت ڈھال کی سی ہوتی ہے لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9015]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 734، م: 414
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9016
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَتَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ" ، فَقَالَ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّك تُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا كَانَ يَشْغَلُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْقُ فِي الْأَسْوَاقِ، مَا كَانَ يُهِمُّنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَلِمَةً يُعَلِّمُنِيهَا أَوْ لُقْمَةً يَلْقُمُنِيهَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا یہ حدیث سن کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ابوہریرہ! سوچ سمجھ کر حدیث بیان کرو کیونکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بہت کثرت کے ساتھ احادیث نقل کرتے ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کردی پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابوعبدالرحمن اللہ کی قسم مجھے بازاروں میں معاملات کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض نہیں کرنے دیتا تھا میرا تو مقصد یہی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات مجھے سمجھا دیں یا کوئی لقمہ مجھے کھلا دیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9016]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9017
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدِ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ، وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت اور ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے نیز کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9017]

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9018
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ، فَقَالَ: " امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ، وَأَطْعِمْ الْمِسْكِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ (اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو) تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کرو اور یتیم کے سر پر شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیرا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9018]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، سقط رجل مبهم بين أبي عمران وبين أبي هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9019
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضيِنَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں سے اس ٹکڑے کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9019]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1611
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9020
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " هُنَّ أَيَّامُ طُعْم"، قَالَ أَبُو عَوَانَة: يَعْنِي أَيَّامَ التَّشْرِيق .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9020]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9021
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيل: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الطِّيَرَةُ؟ قَالَ: " لَا طَائِر"، ثَلَاثَ مَرَّات، وَقَالَ:" خَيْرُ الْفَأْلِ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ" .
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! شگون بد سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں البتہ بہترین فال اچھا کلمہ ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9021]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5557، م: 2223
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں