مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8992
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8992]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 8993
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8993]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل أبي الحكم
حدیث نمبر: 8994
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَادَتْهُ، فَقَالَتْ: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ بُنَيَّ، أَشْرِفْ عَلَيَّ أُكَلِّمْكَ، أَنَا أُمُّكَ، أَشْرِفْ عَلَيَّ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، صَلَاتِي وَأُمِّي! فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، ثُمَّ عَادَتْ، فَنَادَتْهُ مِرَارًا، فَقَالَتْ: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ بُنَيَّ، أَشْرِفْ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، صَلَاتِي وَأُمِّي! فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَةَ، وَكَانَتْ رَاعِيَةً تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى ظِلِّ صَوْمَعَتِهِ، فَأَصَابَتْ فَاحِشَةً، فَحَمَلَتْ، فأُخِذَتْ، وَكَانَ مَنْ زَنَى مِنْهُمْ قُتِلَ قَالُوا: مِمَّنْ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَيْجٍ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ، فَجَاءُوا بِالْفُئُوسِ وَالْمُرُورِ، فَقَالُوا: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ مُرَاءٍ، ثُمَّ قَالُوا انْزِلْ، فَأَبَى، وَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ يُصَلِّي، فَأَخَذُوا فِي هَدْمِ صَوْمَعَتِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ، فَجَعَلُوا فِي عُنُقِهِ وَعُنُقِهَا حَبْلًا، وَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِمَا فِي النَّاسِ، فَوَضَعَ أُصْبُعَهُ عَلَى بَطْنِهَا، فَقَالَ: أَيْ غُلَامُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي فُلَانٌ رَاعِي الضَّأْنِ، فَقَبَّلُوهُ، وَقَالُوا: إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا لَكَ الصَّوْمَعَةَ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ، قَالَ: أَعِيدُوهَا كَمَا كَانَتْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص کا نام جریج تھا یہ ایک مرتبہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں نے آکر آواز دی جریج بیٹا! میری طرف جھانک کر دیکھو میں تمہاری ماں ہوں تم سے بات کرنے کے لئے آئی ہوں یہ اپنے دل میں کہنے لگا کہ والدہ کو جواب دوں یا نماز پڑھوں آخرکار ماں کو جواب نہیں دیا کئی مرتبہ اسی طرح ہوا بالاآخر ماں نے (بددعا دی اور) کہا الٰہی جب تک اس کا بدکار عورتوں سے واسطہ نہ پڑجائے اس پر موت نہ بھیجنا۔ ادھر ایک باندی اپنے آقا کی بکریاں چراتی تھی اور اس کے گرجے کے نیچے آکر پناہ لیتی تھی اس نے بدکاری کی اور امید سے ہوگئی لوگوں نے اسے پکڑ لیا اس وقت رواج یہ تھا کہ زانی کو قتل کردیا جائے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا جریج کا ہے لوگ کلہاڑیاں اور رسیاں لے کر جریج کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ریاکار جریج نیچے اتر جریج نے نیچے اترنے سے انکار کردیا اور نماز پڑھنے لگا لوگوں نے اس کا گرجا ڈھانا شروع کردیا جس پر وہ نیچے اتر آیا لوگ جریج اور عورت کی گردن میں رسی ڈال کر انہیں لوگوں میں گھمانے لگے اس نے بچے کے پیٹ پر انگلی رکھ کر اس سے پوچھا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے چاندی کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا جیسا تھا ویسا ہی بنادو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8994]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550
حدیث نمبر: 8995
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ، فَوَجَدَ غَرِيمُهُ مَتَاعَهُ عِنْدَ الْمُفْلِسِ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8995]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
حدیث نمبر: 8996
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلْمُؤْمِنِ زَوْجَتَانِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا، مِنْ فَوْقِ ثِيَابِهِمَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8996]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 8997
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس کی کوئی دیت اور قصاص نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8997]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158
حدیث نمبر: 8998
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8998]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2113
حدیث نمبر: 8999
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ: " لَتَتْرُكَنَّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي" يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آکر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8999]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389
حدیث نمبر: 9000
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَرْتَقِيَنَّ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے اس منبر پر بنو امیہ کے ظالموں میں سے ایک ظالم قابض ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9000]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9001
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حَمَّادٌ: وَثَابِتٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9001]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 38، م: 760، وللحديث هنا إسنادان: الأول حسن، والثاني مرسل ضعيف