مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9112
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9112]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9113
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9113]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 9114
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " يَشْتُمُنِي ابْنُ آدَمَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي , وَيُكَذِّبُنِي، وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، أَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ: قَوْلُهُ: إِنَّ لِي وَلَدًا، وَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ: قَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برا بھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جسطرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح پیدا نہیں کرے گا اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9114]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3193
حدیث نمبر: 9115
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُبَالُ فِي الْمَاءِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يُغْتَسَلُ مِنْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9115]
الحكم على الحديث:
حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 9116
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الدَّهْرُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو کہ زمانے کی تباہی ہو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9116]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246
حدیث نمبر: 9117
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَهُ , فَهُوَ عِلْمُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جماعت انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی زمین پر لکیریں کھینچا کرتے تھے (جسے علم رمل کہتے ہیں) جس شخص کا علم ان کے موافق ہوجائے وہ اسے جان لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9117]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9118
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِيمٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن شریف اور بھولا بھالا ہوتا ہے جبکہ کافر دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9118]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، والراوي المبهم هو الحجاج بن فرافصة، وحديثه من باب الحسن
حدیث نمبر: 9119
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يُحْدِثْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9119]
الحكم على الحديث:
حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 477، م: 649
حدیث نمبر: 9120
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ بِبَيْعٍ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ ابْتَاعَ شَاةً فَوَجَدَهَا مُصَرَّاةً فَلْيَرُدَّهَا، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَلَا يَسُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا، فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض، حسد، دھوکہ بازی اور قطع رحمی نہ کیا کرو اور اے بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے تاجروں سے باہر باہر ہی مت مل لیا کرو جو شخص کوئی بکری خریدے پھر اسے پتہ چلے کہ اس کے تھن بندھے ہوئے ہیں تو وہ اسے ایک صاع کھجوروں کے ساتھ واپس لوٹا سکتا ہے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9120]
الحكم على الحديث:
حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 2151، م: 1524، 1413
حدیث نمبر: 9121
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " يُوشِكُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَنْ يَنْزِلَ حَكَمًا قِسْطًا، وَإِمَامًا عَدْلًا، فَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَتَكُونَ الدَّعْوَةُ وَاحِدَةً" . فَأَقْرِئُوهُ، أَوْ أَقْرِئْهُ السَّلَامَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأُحَدِّثُهُ فَيُصَدِّقُنِي، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: أَقْرِئُوهُ مِنِّي السَّلَامَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا ام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے اور ایک ہی دعوت رہ جائے گی تم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام کہہ دینا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت اس کی تصدیق کی اور مجھے بھی اس کی وصیت کی [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9121]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 2476، م: 155