مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9092
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا هِجْرَةَ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَمَنْ هَجَرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ، دَخَلَ النَّارَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں جو شخص تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے بول چال بند رکھے اور مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9092]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات لكن منصورا شك في رفعه هنا، فالصحيح من الحديث مرفوعا: « لا هجرة فوق ثلاث » فقط، م: 2562
حدیث نمبر: 9093
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَرْقُدَنَّ جُنُبًا حَتَّى تَتَوَضَّأَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالت جنابت میں مت سویا کرو بلکہ وضو کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9093]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9094
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9094]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 9095
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَقِيَ آدَمَ مُوسَى، فَقَالَ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، ثُمَّ صَنَعْتَ مَا صَنَعْتَ؟!، فَقَالَ آدَمُ لِمُوسَى: أَنْتَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ؟، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَهَلْ تَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم و موسیٰ (علیہم السلام) کی باہم ملاقات ہوگئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ وہی آدم ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا پھر آپ نے یہ کام کردیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا تم وہی ہو جس سے اللہ نے کلام کیا اور اس پر تورات نازل فرمائی؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا جی ہاں حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا میری پیدائش سے قبل یہ حکم لکھا ہوا تم نے تورات میں پایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس طرح حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9095]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
حدیث نمبر: 9096
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْثَرُ مَا يَلِجُ بِهِ الْإِنْسَانُ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ، وَالْفَرْجُ، وَأَكْثَرُ مَا يَلِجُ بِهِ الْإِنْسَانُ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے کر جائیں گی اور لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ جنت میں تقویٰ اور حسن اخلاق لے کر جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9096]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بالمتابعات
حدیث نمبر: 9097
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْتُورُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَجُلٌ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟، قَالَ:" لَا , وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ" .
محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اس وقت وہ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے اس نے کہا کہ اے ابوہریرہ! کیا آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا بیت اللہ کے رب کی قسم! نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9097]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9098
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ الْأَنْصَارِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّانَاج ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثَلَاثَةٌ حَفِظْتُهُنَّ عَنْ خَلِيلِي أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزیں محفوظ کی ہیں۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کے وقت دو رکعتیں پڑھنے کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9098]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 9099
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ مَوْلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَاءَهُ نَاسٌ صَيَّادُونَ فِي الْبَحْرِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ أَرْمَاثٍ، وَإِنَّا نَتَزَوَّدُ مَاءً يَسِيرًا إِنْ شَرِبْنَا مِنْهُ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَإِنْ تَوَضَّأْنَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَشْرَبُ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، فَهُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9099]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ووقع فى إسناد المصنف هنا خطأ، والصواب أنه من رواية سعيد بن سلمة عن المغيرة ابن أبي بردة عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9100
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9100]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث کما في « العلل » للدارقطني 49/3، 50
حدیث نمبر: 9101
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ: أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَوْتَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9101]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851