مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9381
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ , وَالْمَاءُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں " کھجور اور پانی " کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9381]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9382
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيَّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدٍ، فَخَرَجَ رَجُلٌ وَقَدْ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ , قَالَ: فَقَالَ: " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9382]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9383
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قُرَابُهُ، قَالَ ثُمَّ جَاءَ وَفِي النَّاسِ رِقَّةٌ , وَهُمْ عِزُونَ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَدَبَ النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوا لَهُ، وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيَتَخَلَّفَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنا مؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9383]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2420 ، م : 651
حدیث نمبر: 9384
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو المُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ فَاطِمَةَ، أَوْ أُمَّ سَلَمَةَ، أَنْ تَجُرَّ ذَيْلَهَا ذِرَاعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے کا دامن ایک گز تک لمبا رکھ سکتی ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9384]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف جدا ، أبو المھزم متروك
حدیث نمبر: 9385
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، إِنَّمَا الْأَمِيرُ مِجَنٌّ، فَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَوْ قُعُودًا، فَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الْأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ، غُفِرَ لَهُ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ اور امیر کی حیثیت ڈھال کی سی ہوتی ہے لہذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو کیونکہ جس کا یہ قول فرشتوں کے موافق ہوجائے تو اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9385]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 734 ، م : 1835 ، 414
حدیث نمبر: 9386
قَال: " وَيَهْلِكُ قَيْصَرُ فَلَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ، وَيَهْلِكُ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ" .
اور فرمایا قیصرہلاک ہوجائے تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا اور کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9386]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3618 ، م : 2918
حدیث نمبر: 9387
وَقَالَ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" .
اور فرمایا پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، عذاب جہنم سے، قبر سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9387]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 1377 ، م : 588
حدیث نمبر: 9388
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، لَآمَنَ بِي كُلُّ يَهُودِيٍّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ" . قَالَ كَعْبٌ: اثْنَا عَشَرَ، مِصْدَاقُهُمْ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9388]
الحكم على الحديث:
صحیح لغیرہ، خ : 3941 ، م : 2793 ، أبو ھلال وإن کان فیه ضعف ، متابع
حدیث نمبر: 9389
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، وحَبِيبٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ: " فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9389]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 772 ، م : 396
حدیث نمبر: 9390
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِمِنًى يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ , فَأَغْلَظَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ. فَقَالَ:" دَعُوهُ , فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا". قَالَ:" اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ". قَالُوا: لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ. قَالَ:" فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا اور اس میں سختی کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ حقداربات کرسکتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ خرید کرلے آؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ خرید کر دے دو، تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9390]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2306 ، م : 1601