مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9410
قَالَ:" وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ" .
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9410]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 7404 م : 2685
حدیث نمبر: 9411
وَقَالَ: " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ , وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ , وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ" .
اور فرمایا کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے، فخروتکبر اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں میں ہوتا ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9411]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3499، م : 52
حدیث نمبر: 9412
وَقَالَ: " تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ، حَتَّى يَقَعَ فِيهِ" .
اور فرمایا تم دیکھو گے کہ جو آدمی اسلام قبول کرنے میں سب سے زیادہ نفرت کا اظہار کرتا تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد تمہیں وہی سب سے بہتر آدمی نظر آئے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9412]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3496 ، م : 2526
حدیث نمبر: 9413
وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرما، اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9413]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 1006 ، م : 675
حدیث نمبر: 9414
وَقَالَ: " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ" .
اور فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامتی عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9414]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1006 ، م : 2515
حدیث نمبر: 9415
وَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ وبکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9415]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6637
حدیث نمبر: 9416
وَقَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ"، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَا مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9416]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1966 ، م : 1103
حدیث نمبر: 9417
وَقَالَ: " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ لَا يَقْطَعُهَا" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9417]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4881 ، م : 2826
حدیث نمبر: 9418
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا وضو نہ ہو اس کی نماز نہیں ہوتی اور جو شخص اللہ کا نام لے کر وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9418]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لجھالة یعقوب ، و والدہ سلمة
حدیث نمبر: 9419
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہماری اس مسجد میں صرف خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو، وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جو دوسرے کا سامان ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9419]
الحكم على الحديث:
حدیث ضعیف ، اختلف في إسنادہ علی المقبري ، وحمید مختلف فیه