مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9401
وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْقَارِئُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، فَوَافَقَ قَوْلُهُ ذَلِكَ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
اور فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے اور مقتدی اللہم ربنا و لک الحمد کہے اور اس کا یہ جملہ آسمان والوں کے اللہم ربنالک الحمد کے موافق ہوجائے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9401]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 796 ، م : 409
حدیث نمبر: 9402
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ" .
ابوصالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے ہوئے جب بھی سر کو جھکاتے یا بلند کرتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9402]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 795 ، م : 392
حدیث نمبر: 9403
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ:" شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَا بَيْن الْمِرْفَقَيْنِ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ جب وہ کشادہ ہوتے ہیں تو سجدہ کرنے میں مشقت ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھٹنوں سے مدد لیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9403]
الحكم على الحديث:
إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9404
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک سانپ اور بچھو کو مارنے سے زیادہ محبوب خبیث جانور کو مارنا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9404]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لجھالة أبي ثفال
حدیث نمبر: 9405
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ، يُخَرِّبُ بَيْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی خانہ کعبہ کو ویران کر ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9405]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1591 ، م : 2909
حدیث نمبر: 9405M
وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ، يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ قحطان کا ایک آدمی لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانک نہ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9405M]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 3518 ، م : 2910
حدیث نمبر: 9406
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا قَرَأَ: وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3، قَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً , أَوْ مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ، وَقَالَ: " لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا، لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت جمعہ نازل ہوئی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے٫ آخرین منہم لما یلحقوا بہم (کچھ دوسرے بھی ہیں جو ان کے ساتھ آ کر اب تک نہیں ملے) کی تلاوت فرمائی تو کسی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب نہ دیا حتی کہ سائل نے دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا، اس وقت ہمارے درمیان حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ پر رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے پر ہوا تو ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9406]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4898 ، م : 2546
حدیث نمبر: 9407
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا، أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ يَعْنِي تَلَفَهَا، أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال (قرض پر) اداء کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ وہ قرض اس سے اداء کروا دیتا ہے اور جو ضائع کرنے کی نیت سے لیتا ہے، اللہ اسے ضائع کروا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9407]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 2387
حدیث نمبر: 9408
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے، جس جگہ ختنے کئے اس کا نام " قدوم " تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9408]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 3356 ، م : 2370
حدیث نمبر: 9409
وَقَالَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی آئے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9409]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 854