🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9607
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، قُلْتُ: تَسْجُدُ فِيهَا؟ قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَجَدَ فِيهَا" .
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ فرمایا ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9607]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1074، م: 578
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9608
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، قَالَ: أَتَانَا أَبُو هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَ:" ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ، قَدْ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ: كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَدًّا إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَرَفَعَ، وَالسُّكُوتُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ" . قَالَ يَزِيدُ: يَدْعُو وَيَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ.
سعید بن سمعان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنی زریق میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمل فرماتے تھے لیکن اب لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین کرتے تھے ہر جھکنے اور اٹھنے کے موقع پر تکبیر کہتے تھے اور قرأت سے کچھ پہلے سکوت فرماتے اور اس میں اللہ سے اس کا فضل مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9608]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 785، 744، م: 392، 598
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9609
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے قیامت کے دن کے لئے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9609]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2752
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9610
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ، لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (خواجہ ابو طالب سے ان کی موت کے وقت) فرمایا کہ لاالہ الا اللہ " کا اقرار کرلیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کے حق میں گواہی دوں گا انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے لوگ یہ طعنہ نہ دیتے کہ خوف کی وجہ سے انہوں نے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9610]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 25
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9611
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ مِرَارًا: وَالَّذِي نَفْسُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، " مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ، حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا" .
ابوحازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی انگلیوں سے اشارے کرتے جا رہے ہیں اور فرماتے جا رہے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل خانہ نے کبھی بھی مسلسل تین دن گندم کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9611]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2976
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9612
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ" . وَقَالَ: وَقَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟!" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں کے پاس نہ لایا کرو نیز فرمایا بیماری متعدی ہونے، بدشگونی اور الو کے منحوس ہونے کی کوئی اصلیت نہیں، ورنہ پہلے آدمی کو اس بیماری میں کس نے مبتلا کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9612]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5717، م: 2220
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9613
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً:" لَا صَدَقَةَ إِلَّا مِنْ ظَهْرِ غِنًى".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9613]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1426
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9614
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِيحٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو اسی وقت واجب ہوتا ہے جب حدث لاحق ہو یا خروج ریح ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9614]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9615
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ . ح وَحدَّثَنَا وَحَجَّاجٌ يعني الأعور , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَتْ يَعْنِي عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ، فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا، وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی پر مال یا آبرو کے حوالے سے ظلم کیا ہو تو ابھی جا کر اس سے معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جہاں کوئی درہم اور دینار نہ ہوگا اگر اس کی نیکیاں ہوئیں تو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9615]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6534
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9616
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " كُلُّ الصَّلَاةِ يُقْرَأُ فِيهَا , فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9616]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں