مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9637
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَيَزِيدُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ " كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ بِالْمَدِينَةِ نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسٍ، وَكَانَ قَيْسٌ لَا يُطَوِّلُ، قَالَ: قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟، قَالَ: نَعَمْ، أَوْ أَوْجَزُ . وَقَالَ يَزِيدُ: وَأَوْجَزُ. حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ , قَالَ: نَعَمْ , وَأَوْجَزُ.
اسماعیل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں مدینہ میں قیس جیسی نماز پڑھاتے تھے اور قیس لمبی نماز نہیں پڑھاتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! بلکہ اس سے بھی مختصر۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9637]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9638
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وأبي سعيد , وَجَابِرٍ ، أو اثنين من هؤلاء الثلاثة:" أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ابوسعید رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ میں سے کسی دو سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار پر سونے چاندی کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9638]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9639
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ , يَدًا بِيَدٍ، مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سرابر وزن کر کے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9639]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1588
حدیث نمبر: 9640
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9640]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 9641
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9641]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 9642
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9642]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761
حدیث نمبر: 9643
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَفَا رَجُلٌ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، وَلَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا عَفَا رَجُلٌ قَطُّ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی ظلم سے درگذر کرلے اللہ اس کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے اور صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا ہے اور جو آدمی معاف کردیتا ہے اللہ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9643]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2588
حدیث نمبر: 9644
حَدَّثَنَا يَحْيَى بن سَعيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ الدَّرَجَاتِ، وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا؟ كَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا، کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9644]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 251
حدیث نمبر: 9645
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بناؤ سنگھار کے بغیر عام حالت میں ہی آیا کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9645]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9646
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَفَّ أَصْحَابُهُ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع ہمیں دی اور عیدگاہ کی طرف روانہ ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9646]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951