مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9567
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ، إِلَّا قَامَ عَلَيْهِ يَعْنِي الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم، نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اپنے کسی غلام پر ایسے کام کی تہمت لگائی جس سے وہ بری ہو قیامت کے دن اس پر اس کی حد جاری کی جائے گی، ہاں! اگر وہ غلام ویسا ہی ہو جیسے اس کے مالک نے کہا تو اور بات ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9567]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 6858 ، م : 1660
حدیث نمبر: 9568
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟، قَالَ:" أَتْقَاهُمْ"، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ:" فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ". قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ:" فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ معزز آدمی کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سب سے زیادہ متقی ہو، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے یہ سوال نہیں پوچھ رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر حضرت یوسف علیہ السلام سب سے زیادہ معزز ہیں جو نبی ابن نبی ابن نبی ابن خلیل اللہ ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے یہ بھی نہیں پوچھ رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر عرب کی کانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو؟ ان میں جو لوگ زمانہ جاہلیت میں سب سے بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی سب سے بہتر ہیں جبکہ دین کی سمجھ بوجھ کرلیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9568]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3353 ، م : 2378
حدیث نمبر: 9569
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ، وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَطَّعُوا أَرْحَامَهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے آپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں ظلم اندھیروں کی شکل میں ہوگا اور فحش گوئی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ فحش باتوں اور کاموں کو پسند نہیں کرتا اور بخل سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اسی بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو دعوت دی اور انہوں نے محرمات کو حلال سمجھا خونریزی کی اور قطع رحمی کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9569]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9570
حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9571
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" إِذَا زَنَتْ خَادِمُ أَحَدِكُمْ"، فَذَكَرَ مَعْنَى الْحَدِيثِ يَعْنِي لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
حدیث نمبر: 9572
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَقَالُوا: مَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي، أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، قَالَ: " خِيَارُ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہمیں مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے پورا پورا ادا کیا اللہ آپ کو پورا پورا عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہتر ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9572]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2392 ، م : 1601
حدیث نمبر: 9573
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قُلْتُ لِيَحْيَى: كِلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ، إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ، أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی صرف دس افراد پر ہی ذمہ دار (حکمران) رہا ہو وہ بھی قیامت کے دن زنجیروں میں جکڑا ہوا پیش ہوگا، پھر یا تو اس کا عدل چھڑا لے گا یا اس کا ظلم و جور ہلاک کروا دے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9573]
الحكم على الحديث:
إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9574
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, قُلْتُ لِيَحْيَى: كِلَاهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا: النِّيَاحَةُ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے زمانہ جاہلیت کے دو شعبے ایسے ہیں جنہیں لوگ کبھی نہیں ترک کریں گے، ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9574]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9575
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ، فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، وَأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9575]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9576
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا عَلَيْهِ، نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح جوش مارے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9576]
الحكم على الحديث:
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید