مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9667
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ، قَالَ: وَالشِّغَارُ: أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي" . قَالَ: " وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنِ الْحَصَاةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9667]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1513، 1416
حدیث نمبر: 9668
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْعَيْنُ حَقٌّ، وَيَحْضُرُ بِهَا الشَّيْطَانُ , وَحَسَدُ ابْنِ آدَمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر کا لگنا برحق ہے اور شیطان اس وقت موجود ہوتا ہے اور انسان حسد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9668]
الحكم على الحديث:
قوله: « العين الحق » صحيح فقط ، خ: 5740، م: 2187، وهذا إسناد منقطع، مکحول لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 9669
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غُفِرَ لِرَجُلٍ نَحَّى غُصْنَ شَوْكٍ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا، اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9669]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1914
حدیث نمبر: 9670
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى السَّعْدِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ رِجَالًا يَسْتَنْفِرُونَ عَشَائِرَهُمْ، يَقُولُونَ: الْخَيْرَ الْخَيْرَ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ، لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ. وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَنْفِي أَهْلَهَا، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَاغِبًا عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے قبیلے والوں کو بہتر، بہتر قرار دے کر برانگیختہ کررہے ہیں (اور مدینے سے جا رہے ہیں) حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے حق میں خیر ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو شخص مدینہ منورہ کی پریشانیوں اور تکالیف پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے مدینہ منورہ اپنے باشندوں کو اس طرح پاک صاف کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو شخص یہاں سے بےرغبتی کے ساتھ نکل کر جائے گا اللہ اس کے بدلے میں اس سے بہتر شخص کو یہاں آباد فرما دے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9670]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1871، م: 1381
حدیث نمبر: 9671
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ووكيع , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ، فَبَاتَ وَهُوَ غَضْبَانُ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ" . قَالَ وَكِيعٌ:" عَلَيْهَا سَاخِطٌ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا ببستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ صبح ہوجائے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9671]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3237، م: 1436
حدیث نمبر: 9672
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ، مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال مجھے اپنا کوئی ایسا عمل بتاؤ جو زمانہ اسلام میں کیا ہو اور تمہیں اس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ اپنے آگے سنی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں نے دن یا رات کے جس حصے میں بھی وضو کیا اس وضو سے حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9672]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
حدیث نمبر: 9673
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ حَسَنٌ , وَحُسَيْنٌ هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَيَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُحِبُّهُمَا. فَقَالَ: " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائیں تو آپ کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ بھی تھے ایک کندھے پر ایک اور دوسرے کندھے پر دوسرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک کو بوسہ دیتے اور کبھی دوسرے کو اسی طرح چلتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب آگئے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان دونوں سے بڑی محبت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے گویا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9673]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن
حدیث نمبر: 9674
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيْحَانُ , وَجَيْحَانُ، وَالنِّيلُ , وَالْفُرَاتُ، وَكُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ" . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ:" كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دریائے فرات، دریائے نیل، دریائے جیحون، دریائے سیحون، سب جنت کی نہریں ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9674]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2839
حدیث نمبر: 9675
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: " هِيَ فِي النَّارِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ:" هِيَ فِي الْجَنَّةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ کرنے میں مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو ستاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنمی ہے پھر اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت نماز، روزہ اور صدقہ کی کمی میں مشہور ہے وہ صرف پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی فرمایا وہ جنتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9675]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 9676
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا، وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا، لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک مریض کی عیادت کے لئے " جسے بخار ہوگیا تھا " تشریف لے گئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا خوش ہوجاؤ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنی آگ کو اپنے مومن بندے پر دنیا ہی میں مسلط کردیتا ہوں تاکہ آخرت میں اس کا جو حصہ ہے وہ دنیا ہی میں پورا ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9676]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد