مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9687
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بن كيْسانِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، لَأَقْرَرْتُ عَيْنَكَ بِهَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (خواجہ ابوطالب سے ان کی موت کے وقت) فرمایا کہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کے حق میں گواہی دوں گا انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے لوگ یہ طعنہ نہ دیتے کہ خوف کی وجہ سے انہوں نے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9687]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 25
حدیث نمبر: 9688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى، وَبَكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دی اور رو پڑے آپ کے ہمراہی بھی رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی میں نے قبر پر حاضری دینے کی اجازت مانگی تو وہ مل گئی اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ قبرستان موت کو یاد دلاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9688]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 976
حدیث نمبر: 9689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا لَمَمٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي، قَالَ: " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكِ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي، وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ"، قَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اسے مرگی کا دورہ پڑتا تھا وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے لئے دعاء کیجئے کہ وہ مجھے شفاء عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو کہ میں اللہ سے تمہارے لئے شفاء کی دعا کر دوں تو میں دعاء کردیتا ہوں اور اگر چاہو تو دنیا میں اس تکلیف پر صبر کرلو آخرت میں تمہارا کوئی حساب نہ ہوگا اس عورت نے کہا کہ پھر تو میں صبر ہی کرلوں گی تاکہ میرا حساب نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9689]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 9690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ هُمَا بِالنَّاسِ كُفْرٌ: نِيَاحَةٌ عَلَى الْمَيِّتِ، وَطَعْنٌ فِي النَّسَبِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے دو چیزیں کفر ہیں ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9690]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 67
حدیث نمبر: 9691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ: " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ أَمْرٍ قَدْ اقْتَرَبَ، أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ" ، وَوَافَقَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ عرب کی ہلاکت قریب آ لگی ہے اس شر سے جو قریب آگیا ہے اس میں کامیاب وہی گا جو اپنا ہاتھ روک لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9691]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلُ هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، مَثَلُ نَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَاذَا يُبْقِينَ مِنْ دَرَنِهِ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہے جسے تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ کیا خیال ہے کہ اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9692]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 667
حدیث نمبر: 9693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ، فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ، فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گردوغبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9693]
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد فيه حُصين، وقد اختلف في أسمه، وهو مقبول، يعني إذا توبع
حدیث نمبر: 9694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ، وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: " أَوَجَدْتُمْ ذَلِكَ"، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں ہم زبان پر لانا پسند نہیں کرتے اگرچہ اس کے بدلے میں ہمیں ساری دنیا مل جائے نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی ایسا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9694]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 132
حدیث نمبر: 9695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ؟"، قَالُوا الَّذِي يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّهِيدَ فِي أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالطَّعِينُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَجْنُوبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ: الْمَجْنُوبُ: صَاحِبُ الْجَنْبِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان " شہید " کسے سمجھتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہدا کی تعداد بہت کم ہوگی، جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے، دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے، سواری سے گر کر مرنا بھی شہادت ہے اور ذات الجنب کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9695]
الحكم على الحديث:
صحيح، خ: 653، م: 1915، وهذا إسناد ضعيف، أبو مالك مجهول، وابن إسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 9696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، الْأَجْوَفَانِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْأَجْوَفَانِ؟، قَالَ" الْفَرْجُ، وَالْفَمُ". قَالَ:" أَتَدْرُونَ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللَّهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے کر جائیں گی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! دو جوف دار چیزوں سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منہ اور شرم گاہ کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ جنت میں تقویٰ اور حسن اخلاق لے کر جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9696]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، داود ضعيف لكنه قد توبع