🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9976
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُسْتَشْهَدُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى قَاتِلِهِ، فَيُسْلِمُ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُسْتَشْهَدَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کر دیاہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی کافر تھا اس نے کسی مسلمان کو شہید کردیا پھر اپنی موت سے پہلے اس کافر نے بھی اسلام قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت میں داخلہ نصیب فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9976]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9977
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو کرم نہ کہا کرو کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9977]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6183، م: 2247
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9978
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال: " الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ، وَمَنْ أُتْبِعَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9978]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2288، م: 1564
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9979
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا مُسْتَكْرِهَ لَه، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ فِي الْمَسْأَلَةِ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9979]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9980
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" .
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑے کا کوئی حصہ بھی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9980]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 359، م: 516
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9981
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ورثاء دینارودرہم کی تقسیم نہیں کریں گے میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنی زمین کے عامل کی تنخواہوں کے علاوہ جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9981]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2776 ، م: 1760
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9982
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ: النِّبَاذِ وَاللِّمَاسِ، وَعَنْ لُبْسِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ شَيْء" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع یعنی بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے اور ایک چادر میں لپٹنے سے اور چادر میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے کہ انسان اور زمین کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9982]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 368، م: 1511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9983
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَارِثِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے وہ میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9983]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6745، م: 1619
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9984
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ عَمَّارٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ، قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ يَأْكُلُ مَعَهُ، أَوْ يُنَاوِلْهُ لُقْمَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی سردی سے کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9984]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9985
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ , وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قِيلَ لَهُ: " أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ" ، قَالَ مُعَاوِيَةُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ:" أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْك".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اے ابن آدم خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9985]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 993
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں