🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10006
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيَقُولُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں (دوسری روایت کے مطابق اعمال پیش کئے جاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10006]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2565
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10007
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قََالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی آدمی کو نامناسب حالت میں دیکھوں تو کیا اسے چھوڑ کر پہلے چار گواہ تلاش کرکے لاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! (بعد میں یہ حکم لعان کے ساتھ تبدیل ہو گیا جس کی تفصیل سورت نور کے پہلے رکوع میں کی گئی ہے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10007]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1498
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10008
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ خُبَيْبٍ . وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10008]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10009
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ , إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے " سوائے مسجد حرام کے " ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10009]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1190، م: 1394، ولعل هذا الإسناد مما وهم فيه إسحاق لأنه لم يرو عن مالك هكذا إلا هو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10010
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَيْسَ بِمُنْجِيهِ عَمَلُه"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راہ راست پر رہو اور صراط مستقیم کے قریب رہو اور یاد رکھو! تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10010]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10011
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: مُرْنِي بِأَمْرٍ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ"، قَالَ: فَمَرَّ أَوْ فَذَهَبَ , ثُمَّ رَجَعَ، قَالَ: مُرْنِي بِأَمْرٍ، قَالَ" لَا تَغْضَبْ" ، قَالَ: فَرَدَّدَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ، فَيَقُولُ:" لَا تَغْضَبْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے کسی ایک بات پر عمل کرنے کا حکم دے دیجئے (زیادہ باتوں کا نہیں تاکہ میں اسے اچھی طرح سمجھ جاؤں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔ اس نے کئی مرتبہ یہی سوال پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10011]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6116
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10012
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَ أَذْرُعٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستے کی پیمائش سات گز رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10012]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10013
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَمِسْعَرٍ , عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ ، قََالَ: سُفْيَانُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَت"، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ:" وَجَبَت"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: " بَعْضُكُمْ شُهَدَاءُ عَلَى بَعْضٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گذرا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10013]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10014
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِح ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْخَلْقِ، كَتَبَ عَلَى عَرْشِهِ: رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10014]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10015
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزارگنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10015]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں